hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1671

.

الطحاوي

1671
Al Tahawi
۱۶۷۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْوُحَاظِیُّ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : ثَنَا شَرِیْکُ بْنُ أَبِیْ نَمِرٍ أَنَّ کُرَیْبًا أَخْبَرَہُ أَنَّہٗ سَمِعَ ( ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَقُوْلُ بِتّ لَیْلَۃً عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ مِنْ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ انْصَرَفْتُ مَعَہُ ، فَلَمَّا دَخَلَ الْبَیْتَ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ ، رُکُوْعُہُمَا مِثْلُ سُجُوْدِہِمَا .وَسُجُوْدُہُمَا مِثْلُ قِیَامِہِمَا ، ثُمَّ اضْطَجَعَ مَکَانَہُ فِیْ مُصَلَّاہُ ، حَتّٰی سَمِعْتُ غَطِیْطَہُ ، ثُمَّ تَعَارَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ کَذٰلِکَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ثَانِیَۃً مَکَانَہُ فَرَقَدَ حَتّٰی سَمِعْتُ غَطِیْطَہُ ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَصَلَّی عَشْرَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ أَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ ، وَأَتَاہُ بِلَالٌ فَآذَنَہُ بِالصُّبْحِ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاۃِ).فَقَدْ أَخْبَرَ فِیْ ہَذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ صَلَّی عَشْرَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ أَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ مَعَ ثِنْتَیْنِ قَدْ تَقَدَّمَتَاہَا ، فَتَکُوْنَانِ مَعَ ہَذِہِ الْوَاحِدَۃِ ثَلَاثًا لِیَسْتَوِیَ مَعْنَی ہَذَا الْحَدِیْثِ وَمَعْنَی حَدِیْثِ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ، وَسَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَیَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ .ثُمَّ نَظَرْنَا ہَلْ رُوِیَ عَنْہُ مَا یُبَیِّنُ ذٰلِکَ .فَإِِذَا إِبْرَاہِیْمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْعُصْفُرِیُّ قَدْ
١٦٧١ : کریب نے بتلایا کہ میں نے ابن عباس (رض) کو کہتے سنا کہ میں نے ایک رات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گزاری۔ پس جب آپ عشاء سے واپس لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ چلدیا۔ پس گھر میں داخل ہو کر آپ نے دو ہلکے پھلکے رکوع والی رکعات ادا فرمائیں ان کے رکوع ‘ سجدے اور قیام تمام یکساں تھے۔ پھر اپنی نماز کی جگہ آپ نے آرام فرمایا۔ یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔ پھر آپ نے نیند سے بیدار ہو کر وضو کیا اور دو رکعت اسی طرح کی ادا فرمائیں۔ پھر دوبارہ اپنی اسی جگہ آرام فرمانے لگے اور سو گئے ‘ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی۔ پھر آپ نے پانچ مرتبہ کیا اور اس طرح دس رکعات ادا فرمائیں ‘ پھر ایک کو ملا کر ان کو وتر بنایا۔ پھر بلال (رض) آگئے اور نماز صبح کی اطلاع دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعت ادا فرما کر نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ اس روایت میں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ آپ نے دس رکعات ادا فرمائیں اور ایک کو ساتھ ملا کر ان کو وتر بنایا۔ پس اس میں یہ احتمال ہے کہ ان دو آخری رکعات کے ساتھ ایک کو ملا کر وتر اد کیے جن دو رکعتوں کو ادا کرچکے تھے تو وہ اس ایک سے ملکر تین ہوگئیں۔ یہ معنی اس بناء پر کیا تاکہ اس روایت اور علی بن عبداللہ ‘ ابن جبیر اور یحییٰ بن جزار والی روایات کا مفہوم ایک ہوجائے۔ پھر ہم نے غور کیا کہ آیا ان کا اس سلسلہ میں کوئی بیان مروی ہے۔ روایت یہ ہے۔