۱۶۷۲ : حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا الْمُقْرِی ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ أَیُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ رَبِّہِ بْنُ سَعِیْدٍ ، عَنْ قَیْسٍ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ سُلَیْمَانَ ، عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا حَدَّثَہُ قَالَ : ( فَصَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ).فَاتَّفَقَ ہَذَا الْحَدِیْثُ وَحَدِیْثُ ابْنِ أَبِیْ دَاوٗدَ ، عَلَی أَنَّ جَمِیْعَ مَا صَلَّی إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، وَبَیَّنَ ہَذَا أَنَّ الْوِتْرَ فِیْہَا ثَلَاثٌ فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ مَعْنَی حَدِیْثِ ابْنِ أَبِیْ دَاوٗدَ ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ ، أَیْ مَعَ اثْنَتَیْنِ قَدْ تَقَدَّمَتَاہَا ہُمَا مَعَہَا وِتْرٌ .
١٦٧٢ : حضرت کریب نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی کہ ابن عباس کہنے لگے کہ ” جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز عشاء کے بعد دو رکعت نماز ادا کی ‘ پھر دو رکعت پھر دو رکعت پھر دو رکعت ‘ پھر تین وتر ادا کیے “۔ پس یہ روایت اور ابن ابی داؤد کی روایت اس بات میں متفق ہوگئیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کل گیارہ رکعت ادا فرمائی۔ اور یہ بھی واضح ہوا کہ اس میں تین رکعت وتر تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابن ابی داؤد والی روایت ” ثم اوتر بواحدۃ “ کا مطلب یہ ہے دو کے ساتھ ایک اور ملائی جن کو پہلے پڑھا اور وتر بھی اس کے ساتھ شامل ہیں۔