۱۶۷۶ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَاء ٍ ، قَالَ : أَنَا شُعْبَۃُ عَنْ الْأَعْمَشِ ، فَذَکَرَ بِإِِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَہَذَا عِنْدَنَا عَلَی أَنَّہٗ کَرِہَ أَنَّہٗ یُوْتِرُ وِتْرًا لَمْ یَتَقَدَّمْہُ تَطَوُّعٌ ، وَأَحَبَّ أَنْ یَکُوْنَ قَبْلَہٗ تَطَوُّعٌ ، إِمَّا رَکْعَتَانِ وَإِِمَّا أَرْبَعٌ .فَإِِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا خِلَافُ ہَذَا .فَذَکَرَ
١٦٧٦ : حضرت شعبہ (رح) نے حضرت اعمش سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ وتروں کو اکیلا پڑھنا ناپسند کرتے تھے کہ اس سے پہلے نفل نہ ہوں بلکہ آپ چاہتے تھے کہ اس سے پہلے نفل ہوں خواہ وہ دو رکعت ہوں یا چار۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرلے کہ ابن عباس (رض) تو اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔