۱۶۷۷ : مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَیْمُوْنٍ الْبَغْدَادِیُّ قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ عَطَاء ٍ : قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ہَلْ لَک فِیْ مُعَاوِیَۃَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ ، وَہُوَ یُرِیْدُ أَنْ یَعِیْبَ مُعَاوِیَۃَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَصَابَ مُعَاوِیَۃُ .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ رُوِیَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ فِعْلِ مُعَاوِیَۃَ ہَذَا مَا یَدُلُّ عَلَی إِنْکَارِہِ إِیَّاہُ عَلَیْہِ .وَذٰلِکَ أَنَّ أَبَا غَسَّانَ مَالِکَ بْنَ یَحْیَی الْہَمْدَانِیَّ
١٦٧٧ : عطاء نے نقل کیا کہ ایک شخص نے ابن عباس (رض) سے کہا کہ کیا آپ کو معاویہ (رض) کی اس بات پر اعتراض ہے کہ انھوں نے ایک وتر پڑھا۔ تو اس آدمی کا مقصد معاویہ (رض) پر غیب لگانا تھا۔ تو ابن عباس (رض) نے فرمایا معاویہ (رض) نے درست کیا۔ (ابن ابی شیبہ ٢/٢٩١) اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ حضرت ابن عباس (رض) سے وہ روایت بھی وارد ہے جس میں معاویہ (رض) کے اس فعل پر نکیر کی گئی ہے۔