۱۶۹۲ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیْدَ اللَّیْثِیِّ ، عَنْ أَبِیْ أَیُّوبَ ، قَالَ : ( الْوِتْرُ حَقٌّ أَوْ وَاجِبٌ ، فَمَنْ شَاء َ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ، وَمَنْ شَاء َ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ ، وَمَنْ شَاء َ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ ، وَمَنْ شَاء َ أَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ ، وَمَنْ غُلْبَ إِلٰی أَنْ یُومِئَ فَلْیُومِئْ).فَأَخْبَرَ فِیْ ہَذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہُمْ کَانُوْا مُخَیَّرِیْنَ فِیْ أَنْ یُوْتِرُوْا بِمَا أَحَبُّوْا ، لَا وَقْتَ فِیْ ذٰلِکَ ، وَلَا عَدَدَ ، بَعْدَ أَنْ یَکُوْنَ مَا یُصَلُّوْنَ وِتْرًا .وَقَدْ أَجْمَعَتِ الْأُمَّۃُ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی خِلَافِ ذٰلِکَ وَأَوْتَرُوْا وِتْرًا لَا یَجُوزُ لِکُلِّ مَنْ أَوْتَرَ عِنْدَہُ تَرْکُ شَیْء ٍ مِنْہُ .فَدَلَّ إِجْمَاعُہُمْ عَلٰی نَسْخِ مَا قَدْ تَقَدَّمَہُ مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ یَکُنْ لِیَجْمَعَہُمْ عَلَی ضَلَالٍ .وَقَدْ رَوَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَی عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ۔
١٦٩٢ : یزید لیثی نے حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے نقل کیا کہ وتر حق یا واجب ہیں۔ پس جو چاہے سات پڑھے اور جو چاہے پانچ پڑھے اور جو چاہے تین پڑھے اور جو چاہے ایک پڑھے اور جس پر تکلیف کا غلبہ ہو تو اشارے سے ادا کرے۔ ان روایات میں اس بات کی اطلاع دی گئی ہے کہ صحابہ کرام کو وتروں کے سلسلہ میں تعداد کی پابندی نہ تھی جس قدر چاہیں پڑھ لیں۔ نہ وقت تھا نہ تعداد متعین تھی۔ البتہ ان کا طاق تعداد میں پڑھنا لازم تھا۔ اس بات پر آپ کے بعد امت کا اتفاق ہوگیا کہ وہ وتر پڑھیں اور جو وتر پڑھے تو اسے اس میں سے کسی چیز کا ترک جائز نہیں۔ اُمت کا اجماع اس اختیار کے نسخ کی دلیل ہے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی۔ عبدالرحمن بن ابزیٰ (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح نقل کیا ہے۔