۱۶۹۳ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ الْمُطَرِّفُ بْنُ أَبِی الْوَزِیْرِ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ عَنْ زُبَیْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ، عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہٗ ( صَلَّیْ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْوِتْرَ فَقَرَأَ فِی الْأُوْلَی : بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّک الْأَعْلَی وَفِی الثَّانِیَۃِ قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ وَفِی الثَّالِثَۃِ قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا ، یَمُدُّ صَوْتَہُ بِالثَّالِثَۃِ).
١٦٩٣ : حضرت عبدالرحمن بن ابزی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وتر ادا کیے۔ آپ نے پہلی رکعت میں سورة اعلیٰ اور دوسری میں الکافرون اور تیسری میں سورة اخلاص پڑھی۔ پس جب آپ فارغ ہوگئے تو آپ نے تین مرتبہ یہ کلمات سبحان الملک القدوس کہے اور تیسری مرتبہ میں آواز کو دراز کیا۔