hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1707

.

الطحاوي

1707
Al Tahawi
۱۷۰۷ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ ، عَنْ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِیِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ یَحْیَی ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِیِّ ، قَالَ : کَانَ مُعَاذٌ یَقْرَأُ لِلنَّاسِ فِیْ رَمَضَانَ فَکَانَ یُوْتِرُ بِوَاحِدَۃٍ ، یَفْصِلُ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الثِّنْتَیْنِ بِالسَّلَامِ ، حَتّٰی یَسْمَعَ مَنْ خَلْفَہُ تَسْلِیْمَہُ .فَلَمَّا تُوُفِّیَ قَامَ لِلنَّاسِ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَأَوْتَرَ بِثَلَاثٍ ، لَمْ یُسَلِّمْ حَتّٰی فَرَغَ مِنْہُنَّ .فَقَالَ لَہٗ النَّاسُ : أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّۃِ صَاحِبِکَ ؟ فَقَالَ : لَا ، وَلَکِنْ إِنْ سَلَّمْتُ انْفَضَّ النَّاسُ .فَہَؤُلَائِ جَمِیْعًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانُوْا یُوْتِرُوْنَ بِثَلَاثٍ ، فَمِنْہُمْ مَنْ کَانَ یُسَلِّمُ فِی الْاِثْنَتَیْنِ وَمِنْہُمْ مَنْ کَانَ لَا یُسَلِّمُ .فَلَمَّا ثَبَتَ عَنْہُمْ أَنَّ الْوِتْرَ ثَلَاثٌ ، نَظَرْنَا فِی حُکْمِ التَّسْلِیْمِ بَیْنَ الْاِثْنَتَیْنِ مِنْہُنَّ ، کَیْفَ ہُوَ ؟ فَرَأَیْنَا التَّسْلِیْمَ یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ وَیَخْرُجُ الْمُسْلِمُ بِہِ مِنْہَا ، حَتّٰی یَکُوْنَ فِیْ غَیْرِ صَلَاۃٍ .وَقَدْ رَأَیْنَا مَا أَجْمَعُوْا عَلَیْہِ مِنْ الْفَرْضِ لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یُفْصَلَ بَعْضُہُ مِنْ بَعْضٍ بِسَلَامٍ .فَکَانَ النَّظَرُ عَلَی ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ ، الْوِتْرُ لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یُفْصَلَ بَعْضُہُ مِنْ بَعْضٍ بِسَلَامٍ .فَإِِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَإِِنَّہُ قَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ یُوْتِرُ بِوَاحِدَۃٍ ، فَذَکَرَ۔
١٧٠٧ : حنش صنعانی کہتے ہیں کہ حضرت معاذ (رض) رمضان میں لوگوں کو قرآن سناتے وہ ایک وتر پڑھا کرتے وہ پہلی دو رکعتوں اور اس میں سلام سے فاصلہ کرتے یہاں تک کہ ان کے پیچھے لوگ سن لیتے۔ جب ان کی وفات ہوگئی زید بن ثابت (رض) ان کی جگہ کھڑے ہوئے وہ لوگوں کو وتر پڑھاتے اور ان کے مابین سلام سے فاصلہ نہ کرتے بلکہ فراغت پر سلام پھیرتے لوگوں نے کہا کیا تم نے اپنے ساتھی کے طریقہ کو ترک کردیا۔ انھوں نے کہا : نہیں لیکن اگر میں سلام پھروں تو لوگ بکھر جائیں گے۔ یہ تمام اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو تین وتر ادا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض دو پر سلام پھیرتے جبکہ دوسرے درمیان میں سلام نہ پھیرتے۔ پس جب ان سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وتر تین ہیں تو اب ہم دو کے بعد سلام پھیرنے کے مسئلہ کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کی صورت کیا ہے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ سلام سے نماز منقطع ہوجاتی ہے اور سلام کرنے والا نماز سے نکل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز سے باہر ہوجاتا ہے۔ اور ہم نے غور سے دیکھا کہ فرائض کے سلسلہ میں اس پر اتفاق ہے کہ ان کے مابین سلام سے فاصلہ نہ ہونا چاہیے۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ وتر کا حکم یہی ہو۔ اور ان میں بھی سلام سے فاصلہ مناسب نہ ہو۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ بہت سے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ وہ ایک وتر پڑھتے تھے۔ روایت ملاحظہ ہو ۔