۱۷۰۸ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْخُزَاعِیُّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا یَغْلِبُنِی اللَّیْلَۃَ عَلَی الْقِیَامِ أَحَدٌ ، فَقُمْتُ أُصَلِّی فَوَجَدْتُ حِسَّ رَجُلٍ مِنْ خَلْفِ ظَہْرِی فَنَظَرْت فَإِِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَتَنَحَّیْت لَہٗ فَتَقَدَّمَ فَاسْتَفْتَحَ الْقُرْآنَ حَتّٰی خَتَمَ ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ فَقُلْتُ أَوْہَمَ الشَّیْخُ ، فَلَمَّا صَلَّی قُلْتُ : یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ، إِنَّمَا صَلَّیْتَ رَکْعَۃً وَاحِدَۃً ، فَقَالَ : أَجَلْ ، ہِیَ وِتْرِی .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُوْنَ عُثْمَانُ کَانَ یَفْصِلُ بَیْنَ شَفْعِہِ وَوِتْرِہِ فَیَکُوْنُ قَدْ صَلَّی شَفْعَہُ قَبْلَ ذٰلِکَ ، ثُمَّ أَوْتَرَ فِیْ وَقْتِ مَا رَآہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ .وَفِیْ إِنْکَارِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِعْلَ عُثْمَانَ دَلِیْلٌ عَلَی أَنَّ الْعَادَۃَ الَّتِیْ قَدْ کَانَ جَرَی عَلَیْہَا قَبْلَ ذٰلِکَ وَعَرَفَہَا عَلَی غَیْرِ مَا فَعَلَ عُثْمَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَہٗ صُحْبَۃٌ .فَقَدْ دَخَلَ بِذٰلِکَ ہَذَا الْمَعْنَی فِی الْمَعْنَی الْأَوَّلِ .وَإِِنْ احْتَجَّ فِیْ ذٰلِکَ مُحْتَجٌّ بِمَا رُوِیَ عَنْ سَعْدٍ۔
١٧٠٨ : ابوبکرہ نے حضرت عبدالرحمن تیمی سے نقل کیا کہ میں نے اپنے طور فیصلہ کیا کہ آج رات کے قیام پر مجھ پر کوئی چیز غالب نہ آسکے گی۔ پس میں نماز پڑھنے لگا میں نے اپنے پیچھے ایک آدمی کی آہٹ محسوس کی ‘ تو میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عثمان بن عفان (رض) ہیں۔ میں نے ان کے لیے جگہ چھوڑ دی وہ آگے بڑھے اور قرآن مجید کو شروع کر کے مکمل کیا پھر رکوع کیا اور سجدہ کیا ‘ میں نے کہا شیخ کو وہم ہوگیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا اے امیر المؤمنین تم نے ایک رکعت ادا کی ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا ہاں وہ میرے وتر ہیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ممکن ہے حضرت عثمان اپنے وتر اور شفعہ کے درمیان فاصلہ کرتے ہوں۔ پس انھوں نے اس سے پہلے شفعہ پڑھا ہوگا پھر جب اس وقت میں جب عبدالرحمن نے ان کو دیکھا تو انھوں نے اس کو طاق بنا لیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ عبدالرحمن کے حضرت عثمان (رض) کے عمل پر انکار سے یہ دلیل مل گئی کہ عام عادت تو اس سے پہلے ان کے ہاں معروف تھی وہ حضرت عثمان (رض) کے فعل سے مختلف تھی اور حضرت عبدالرحمن (رض) بھی صحابی ہیں۔ اس سے یہ مفہوم بھی پہلے معنی میں شامل ہوگیا۔ اگر کوئی معترض حضرت سعد (رض) کی روایت سے حجت و دلیل پکڑ لے۔ روایت یہ ہے۔