۱ ۱۷۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَاء ٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ : أَمَّنَا سَعْدُ بْنُ أَبِیْ وَقَّاصٍ فِیْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، تَنَحَّی فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّی رَکْعَۃً فَاتَّبَعْتُہُ فَأَخَذْتُ بِیَدِہِ فَقُلْتُ لَہٗ : یَا أَبَا إِِسْحَاقَ مَا ہَذِہِ الرَّکْعَۃُ ؟ فَقَالَ : وِتْرٌ أَنَامُ عَلَیْہِ ، قَالَ عَمْرٌو : فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِمُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَ : کَانَ یُوْتِرُ بِرَکْعَۃٍ یَعْنِی سَعْدًا .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُوْنَ سَعْدٌ فَعَلَ فِیْ ذٰلِکَ مَا احْتَمَلَہٗ مَا فَعَلَہٗ عُثْمَانُ فِیْمَا ذَکَرْنَا قَبْلَہٗ .فَإِِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَفِیْ حَدِیْثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ مَا یَدُلُّ عَلَی خِلَافِ ذٰلِکَ لِأَنَّہٗ قَالَ : صَلَّی بِنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَحَّی فَصَلَّی رَکْعَۃً قِیْلَ لَہٗ : قَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ الْاِنْصِرَافُ ہُوَ الْاِنْصِرَافُ إِلَیْ مَنْزِلِہِ وَقَدْ صَلَّی قَبْلَ ذٰلِکَ بَعْدَ انْصِرَافِہِ مِنْ صَلَاتِہِ .
١٧١١ : ابن خزیمہ نے اپنی سند سے عبداللہ بن سلمہ سے بیان کیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے عشاء کی نماز میں ہماری امامت کرائی۔ پس جب اس سے فارغ ہوئے تو وہ مسجد کے ایک کونے میں الگ چلے گئے اور ایک رکعت ادا کی۔ پس میں ان کے پیچھے چلدیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا اے ابو اسحاق یہ رکعت کیسی ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : یہ وتر ہیں جن کو پڑھ کر میں سوتا ہوں۔ عمرو کہنے لگے میں نے یہ مصعب بن سعد کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا سعد ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں۔ (ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ ٢/٢٩٢) ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا ممکن ہے کہ وہ سعد (رض) نے بھی اسی طرح کیا ہو جو احتمال ہم نے اوپر حضرت عثمان (رض) کے متعلق نقل کیا ہے۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ عمرو بن مرّہ کی روایت اس کے برعکس ہے کیونکہ اس میں کہا گیا ہے۔ انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک طرف ہٹ کر انھوں نے ایک رکعت ادا کی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ممکن ہے کہ اس لوٹنے سے گھر کی طرف لوٹنا مراد ہو۔ اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے نماز پڑھی ہو۔