۱۷۱۲ : وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَاء ٍ قَالَ : ثَنَا دَاوٗدَ بْنُ أَبِیْ ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : کَانَ آلُ سَعْدٍ وَآلُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ یُسَلِّمُوْنَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنْ الْوِتْرِ وَیُوْتِرُوْنَ بِرَکْعَۃٍ رَکْعَۃٍ .فَقَدْ بَیَّنَ الشَّعْبِیُّ فِیْ ہَذَا الْحَدِیْثِ مَذْہَبَ آلِ سَعْدٍ فِی الْوِتْرِ ، وَہُمْ الْمُقْتَدُوْنَ بِسَعْدٍ ، الْمُتَّبِعُوْنَ لِفِعْلِہِ ، وَإِِنَّ وِتْرَہُمْ الَّذِی کَانَ رَکْعَۃً رَکْعَۃً إِنَّمَا ہُوَ وِتْرٌ بَعْدَ صَلَاۃٍ ، قَدْ فَصَلُوْا بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا بِتَسْلِیْمٍ .فَقَدْ عَادَ ذٰلِکَ إِلَی قَوْلِ الَّذِیْنَ ذَہَبُوْا إِلَی أَنَّ الْوِتْرَ ثَلَاثٌ .
١٧١٢ : ابو امیہ نے اپنے اسناد سے نقل کیا کہ آل سعد اور آل عبداللہ بن عمر وتر کی دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت اور ملا کر وتر بناتے۔ تو اس روایت میں شعبی (رح) نے واضح کردیا کہ وتروں میں آل سعد (رض) کا طریقہ حضرت حضرت سعد (رض) کے قول و فعل کی اتباع تھی۔ ان کے وتر وہ ایک ایک رکعت تھی اور وہ رکعت ایسی ہوتی کہ اس سے پہلے ایک شفعہ پڑھ کر سلام پھیرتے۔ پس اس معنی کو اختیار کرنے سے اس کا وہی مفہوم ہوا جو کہتے ہیں کہ وتر تین رکعت ہیں۔