۱۷۱۳ : وَقَدْ حَدَّثَنَا بَکَّارٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیْمَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ عَابَ ذٰلِکَ عَلَی سَعْدٍ وَمُحَالٌ - عِنْدَنَا - أَنْ یَکُوْنَ عَبْدُ اللّٰہِ عَابَ ذٰلِکَ عَلَی سَعْدٍ مَعَ نُبْلِ سَعْدٍ وَعِلْمِہِ إِلَّا لِمَعْنًی قَدْ ثَبَتَ عِنْدَہُ ، وَہُوَ أَوْلَی مِنْ فِعْلِہِ ، وَلَوْ کَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ إِنَّمَا خَالَفَہُ بِرَأْیِہِ لَمَا کَانَ رَأْیُہُ أَوْلَی مِنْ رَأْیِ سَعْدٍ ، وَلَمَا عَابَ ذٰلِکَ عَلَی سَعْدٍ ، إِذَا کَانَ مَا أَخَذَ ذٰلِکَ مِنْہُ ہُوَ الرَّأْیُ ، وَلَکِنْ الَّذِی عَلِمَہُ ابْن مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِمَّا خَالَفَ فِعْلَ سَعْدٍ فِیْ ذٰلِکَ ہُوَ غَیْرُ الرَّأْیِ .وَإِِنْ احْتَجَّ فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
١٧١٣ : ابراہیم نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے حضرت سعد پر اس سلسلہ میں تنقید کی۔ اور ہمارے ہاں یہ بات ناممکن ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) حضرت سعد (رض) پر باوجود ان کے عمل و فضل کے تنقید بلاوجہ کریں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بات ان کے ہاں ثابت شدہ تھی۔ اور وہ بات حضرت سعد (رض) کے فعل سے اولیٰ تھی۔ اگر ابن مسعود (رض) اپنے اجتہاد سے ان پر تنقید کرتے تو ان کی بات سعد (رض) کے فعل سے اولیٰ نہ ہوتی۔ جب انھوں نے سعد (رض) پر تنقید کی اس لیے کہ جس کو وہ اختیار کرنے والے تھے وہ اجتہاد تھا لیکن ابن مسعود (رض) جس بات کو سعد کے فعل کے خلاف جانتے تھے وہ صرف رائے نہ تھی (بلکہ ثابت شدہ عمل تھا) ۔ اگر کوئی اس روایت کو بطور دلیل پیش کرے۔