۱۷۱۶ : حَدَّثَنَا أَبُوْ الْعَوَّامِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْمُرَادِیُّ قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ الْأَیْلِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِیْ الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِیْہِ ، عَنْ السَّبْعَۃِ ، سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، وَعُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَأَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَخَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، وَعُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ، وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، فِیْ مَشْیَخَۃٍ سِوَاہُمْ أَہْلِ فِقْہٍ وَصَلَاحٍ وَفَضْلٍ وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوْا فِی الشَّیْئِ فَأَخَذَ بِقَوْلِ أَکْثَرِہِمْ وَأَفْضَلِہِمْ رَأْیًا .فَکَانَ مِمَّا وَعَیْتُ عَنْہُمْ عَلٰی ہَذِہِ الصِّفَۃِ أَنَّ الْوِتْرَ ثَلَاثٌ لَا یُسَلِّمُ إِلَّا فِیْ آخِرِہِنَّ فَہَذَا مَنْ ذَکَرْنَا مِنْ فُقَہَائِ الْمَدِیْنَۃِ وَعُلَمَائِہِمْ قَدْ أَجْمَعُوْا أَنَّ الْوِتْرَ ثَلَاثٌ لَا یُسَلِّمُ إِلَّا فِیْ آخِرِہِنَّ ، وَتَابَعَہُمْ عَلَی ذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ، وَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ مُنْکِرٌ سِوَاہُمْ وَقَدْ عَلِمَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ مَا کَانَ مِنْ وِتْرِ سَعْدٍ ، فَأَفْتَی بِغَیْرِہِ ، وَرَآہُ أَوْلَی مِنْہُ وَقَدْ أَفْتَی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ بِذٰلِکَ أَیْضًا ، وَقَدْ رَوَی عَنْہُ الزُّہْرِیُّ وَابْنُہُ ہِشَامٌ فِی الْوِتْرِ مَا قَدْ تَقَدَّمَتْ رِوَایَتُنَا لَہٗ فِیْ ہَذَا الْبَابِ .فَہَذَا عِنْدَنَا مِمَّا لَا یَنْبَغِی خِلَافُہُ لِمَا قَدْ شَہِدَ لَہٗ مِنْ حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ فِعْلِ أَصْحَابِہِ ، وَأَقْوَالِ أَکْثَرِہِمْ مِنْ بَعْدِہِ ثُمَّ اتَّفَقَ عَلَیْہِ تَابِعُوہُمْ .
١٧١٦ : ابو العوام محمد بن عبداللہ نے اپنے اسناد کے ساتھ ابو الزناد سے نقل کیا کہ مدینہ منورہ کے فقہاء سبعہ ابن المسیب ‘ عروہ ‘ قاسم ‘ ابوبکر بن عبدالرحمن ‘ خارجہ بن زید ‘ عبداللہ بن عبداللہ ‘ سلیمان بن یسار یہ اپنے علاوہ مشائح اور فضیلت و صلاحیت والے فقہاء کے سامنے مسائل بیان کرتے۔ بسا اوقات کسی مسئلہ میں اختلاف کرتے تو پھر ان میں سے اکثریت کے قول کو اور افضل ترین کے قول کو لیتے۔ پس میں نے ان سے اس سلسلہ میں جو یاد کیا وہ یہی تھا کہ وتر تین ہیں اور ان کے آخر میں سلام پھیرا جائے گا۔ پس یہ فقہاء و علماء مدینہ منورہ جن کا ہم نے تذکرہ کیا ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وتر تین ہیں۔ آخر میں سلام پھیرتے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے ان کی متابعت کی اور کسی انکار کرنے والے نے اس کا انکار نہیں کیا۔ ابن مسیب (رح) کو حضرت سعد (رض) کے وتروں کا علم تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے اس کے خلاف فتویٰ دیا۔ اور ان کے عمل سے اس کو اولیٰ گردانا۔ اور عروہ (رح) نے بھی اس کا فتویٰ دیا۔ اور ان سے زہری اور ان کے بیٹے ہشام نے بھی روایت کی جو اسی باب میں گزر چکی۔ یہ ہمارے ہاں ایسا عمل ہے کہ اس کی خلاف ورزی مناسب نہیں اس لیے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث اس کی شاہد ہے۔ اور پھر اس عمل کو آپ کے بعد آپ کے اصحاب (رض) نے بھی اختیار کیا اور ان میں سے اکثریت کے اقوال بھی اس کی تائید میں ہیں پھر تابعین کرام کا اس پر اتفاق ہوگیا۔