۱۷۱۷: بِمَا قَدْ حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ أَوْ النِّدَائِ بِالصُّبْحِ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاۃُ .
١٧١٧: حضرت ابن عمر (رض) نے امّ المؤمنین حفصہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے بتایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مؤذن صبح کی اذان دے کر فارغ ہوجاتا تو نماز کے قائم کرنے سے پہلے ہلکی پھلکی دو رکعت ادا فرماتے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ فجر کی رکعات میں قراءت بالکل نہیں۔ دوسرے علماء کہتے ہیں اس کی دونوں رکعات میں سورة فاتحہ صرف پڑھیں گے۔ دونوں گروہوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے۔
تخریج : مسلم فی المسافرین ٨٧ بخاری باب التہجد باب ٢٨‘ ١؍١٥٦۔