۱۷۴۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ وَفَہْدٌ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ : ثَنَا بَکْرُ بْنُ مُضَرَ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ جَعْفَرُ بْنُ رَبِیْعَۃَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّہٗ سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَقْرَأُ فِیْ رَکْعَتَیَ الْفَجْرِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ لَا یَزِیْدُ مَعَہَا شَیْئًا
١٧٤٩: عقبہ بن مسلم نے عبدالرحمن بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کو سنا کہ وہ فجر کی دو رکعتوں میں امّ القرآن پڑھتے اور اس کے ساتھ کسی اور چیز کا اضافہ نہ فرماتے تھے۔
اس روایت کو عدم قراءت کی تردید کے لیے پیش کیا گیا فقط اس سے ضم سورة پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
ان روایات سے آفتاب نیم روز کی طرح ثابت ہوگیا کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں فاتحہ سمیت قراءت بھی کی جائے گی جو قراءت کے مطلقاً قائل نہیں ان کے پاس بھی روایت سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
ائمہ ثلاثہ اور تمام فقہاء کا متفقہ فیصلہ فجر کی دو رکعتوں میں حسب طبع مختصر یا طویل قراءت ہے واللہ اعلم۔ یہ باب نظر طحاوی (رح) سے خالی ہے خود دلائل مانعین کے خلاف اس قدر مضبوط ہیں کہ کسی معاون دلیل کی حاجت نہیں۔