۱۷۵۰: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ وَمَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : مَا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِیْ یَکُوْنُ عِنْدِی فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَّا صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ .
١٧٥٠: اسود نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ جس دن بھی میرے گھر میں ہوتے تو عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے۔
تخریج : بخاری فی المواقیت باب ٣٤‘ مسلم فی المسافرین نمبر ٣٠١۔
خلاصہ الزام : عصر کے بعد دو رکعت نفل کو اہل ظواہر جائز قرار دیتے ہیں اور ائمہ اربعہ جمہور فقہاء امت اس کے قائل نہیں بلکہ مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل :
عصر کے بعد نفل پڑھنے درست ہیں اس کا ثبوت ان روایات سے واضح ہے۔