۱۷۵۹: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعْدِ ڑ الْأَعْمٰی یُحَدِّثُ، عَنْ (رَجُلٍ یُقَالُ لَہٗ السَّائِبُ مَوْلَی الْقَارِئِیْنَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدِ ڑ الْجُہَنِیِّ أَنَّہٗ رَآہُ رَکَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَکْعَتَیْنِ وَقَالَ : لَا أَدَعُہُمَا بَعْدَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْہِمَا .) قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا وَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِأَنْ یُصَلِّیَ الرَّجُلُ بَعْدَ الْعَصْرِ رَکْعَتَیْنِ وَہُمَا مِنَ السُّنَّۃِ عِنْدَہُمْ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .فَخَالَفَہُمْ أَکْثَرُ الْعُلَمَائِ فِیْ ذٰلِکَ وَکَرِہُوہُمَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا ۔
١٧٥٩: سائب مولی القارئین نے حضرت زید بن خالد الجہنی (رض) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے زید کو عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا اور زید کہنے لگے میں ان کو اس وقت سے نہیں چھوڑتا جب سے میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھتے دیکھا۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے میں حرج نہیں بلکہ یہ ان کے ہاں سنت ہیں اور انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا۔ مگر علماء کی اکثریت نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا یہ دو رکعت مکروہ ہیں اور انھوں نے یہ روایاتِ ذیل سے استدلال کیا ہے۔
تخریج : المعجم الکبیر ٥؍٢٢٨۔
حاصل روایات : ان روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کو عصر کے بعد صرف پڑھنے کا ثبوت ہی نہیں بلکہ ان کی سنیت ثابت ہو رہی ہے پس ان کا انکار کیسے درست ہوسکتا ہے ؟
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل :
عصر کے بعد نوافل درست نہیں بلکہ مکروہ تحریمی ہیں اس کی تائید مندرجہ ذیل روایات سے ہو رہی ہے یہ سابقہ روایات کا جواب بھی ہے اور مستقل دلیل بھی۔