۱۷۶۰: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسَی الْعَبْسِیُّ، قَالَ : أَنَا طَلْحَۃُ بْنُ یَحْیٰی، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ أَرْسَلَ إِلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ یَسْأَلُہَا عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ رَکَعَہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ : نَعَمْ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدِی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقُلْتُ : أُمِرْتَ بِہِمَا؟ قَالَ : لَا، وَلٰـکِنِّیْ کُنْتُ أُصَلِّیْہِمَا بَعْدَ الظُّہْرِ فَشُغِلْتَ عَنْہُمَا فَصَلَّیْتُہُمَا الْآنَ .
١٧٦٠: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ معاویہ (رض) نے ام سلمیٰ (رض) کی طرف پیغام بھیجا ان سے سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کرتے تھے یا نہیں انھوں نے جواب دیا جی ہاں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعتیں ادا فرمائیں تو میں نے گزارش کی کیا آپ کو ان دو رکعتوں کا حکم ملا ہے آپ نے فرمایا نہیں لیکن میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا آج مشغولیت کی وجہ سے رہ گئیں پس میں نے اب پڑھ لیں۔
تخریج : نسائی فی المواقیت باب ٣٣۔