۱۷۹۲: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنْ طَاوٗسٍ، أَنَّہٗ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَنَہَاہُ، وَقَالَ : (وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَمْرًا أَنْ یَکُوْنَ لَہُمَ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ) الْآیَۃَ .فَہَؤُلَائِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَوْنَ عَنْہُمَا، وَیَضْرِبُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَیْہِمَا بِحَضْرَۃِ سَائِرِ أَصْحَابِہٖ عَلٰی قُرْبِ عَہْدِہِمْ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُنْکِرُ ذٰلِکَ عَلَیْہِ مِنْہُمْ مُنْکِرٌ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ أَخْبَرَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ نَہٰی عَنْہُمَا ثُمَّ صَلَّاہُمَا بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَّا تَرَکَہُمَا بَعْدَ الظُّہْرِ .فَھٰکَذَا أَقُوْلُ : یُصَلِّیْہِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ مَنْ تَرَکَہُمَا بَعْدَ الظُّہْرِ، وَلَا یُصَلِّیْ أَحَدٌ بَعْدَ الْعَصْرِ شَیْئًا مِنَ التَّطَوُّعِ غَیْرَہُمَا .قِیْلَ لَہٗ : إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا صَلَّاہُمَا حِیْنَئِذٍ قَدْ نَہٰی عَنْہُمَا أَنْ یَقْضِیَہُمَا أَحَدٌ۔
١٧٩٢: طاؤس کہتے ہیں میں نے ابن عباس (رض) سے عصر کی نماز کے بعد دو رکعت کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے منع فرمایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَمْرًا أَنْ یَکُوْنَ لَہُمَ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ } [الاحزاب : ٣٦] یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ہیں جو ان نوافل سے روکتے ہیں اور حضرت عمر فاروق (رض) ان کی موجودگی میں عہد نبوت کے قرب کے باوجود ان کی پٹائی کرتے ہیں اور کوئی اس کا انکار نہیں کرتا۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ حضرت اُم سلمہ (رض) نے تو یہ خبر دی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو اس سے روکا ہے۔ پھر ظہر کے بعد رہ جانے والے نوافل کو اس کے بعد ادا کیا۔ اسی طرح میں یہ کہتا ہوں کہ عصر کے بعد وہ شخص پڑھے جو ظہر کے بعد نوافل چھوڑنے والا ہو۔ البتہ کوئی شخص عصر کے بعد نوافل میں سے کوئی چیز نہ پڑھے۔ اس سے کہا جائے گا کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان رکعات کو ادا فرمایا تو اسی وقت ان کی قضاء سے بھی منع فرما دیا۔ اس کی دلیل یہ روایت ہے۔
تخریج : بیہقی ٢؍٦٣٥‘ باب النہی عن الصلاۃ۔
حاصل آثار صحابہ (رض) :
ان روایات سے صحابہ کرام (رض) کا طرز عمل واضح ہوگیا کہ عمر (رض) اور خالد بن ولید ‘ ابو سعید خدری (رض) عصر کے بعد (نوافل) نماز پڑھنے والے کو درے لگاتے اور یہ دیگر صحابہ کرام اور تابعین کی موجودگی میں درے لگاتے کسی کو انکار کی مجال نہ تھی۔ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتہائی قرب کا زمانہ ہے اتنا جلد تو وہ احکام کو بھول نہیں گئے پس ثابت ہوگیا کہ عصر کے بعد نفل نماز نہیں ہے۔
اس پر صحابہ کرام (رض) کا اجماع تھا کہ عصر کے بعد نماز نفل نہیں۔
اشکال : حضرت امّ سلمہ (رض) کی روایت میں موجود ہے کہ آپ نے ظہر کے بعد والی رکعات کو چھوڑ دیا پھر ان کو عصر کے بعد پڑھا آپ نے ان کو چھوڑا ہی کیوں تھا ؟ کیا پھر ہمارے لیے بھی ظہر کی چھوڑی گئی رکعات کو عصر کے بعد ادا کرنا درست ہوگا جبکہ عصر کے بعد نوافل کی ممانعت ہے۔
جواب : اس کو کہا جائے گا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ان کو ادا کیا تو قضاء سے آئندہ منع فرمایا دیا جیسا کہ اس روایت میں وارد ہے۔