hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1793

.

الطحاوي

1793
Al Tahawi
۱۷۹۳: أَنَّ عَلِیَّ بْنَ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ، قَالَ : أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ ذَکْوَانَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ : (صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ بَیْتِیْ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ : صَلَّیْتَ صَلَاۃً لَمْ تَکُنْ تُصَلِّیْہَا، قَالَ : قَدِمَ عَلَیَّ مَالٌ فَشَغَلَنِیْ عَنْ رَکْعَتَیْنِ کُنْتُ أُصَلِّیْہِمَا بَعْدَ الظُّہْرِ فَصَلَّیْتُہُمَا الْآنَ .قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَفَنَقْضِیْہِمَا اِذَا فَاتَتَا، قَالَ : لَا) .فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَحَدًا أَنْ یُصَلِّیَہُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ قَضَائً عَمَّا کَانَ یُصَلِّیْہِ بَعْدَ الظُّہْرِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی، أَنَّ حُکْمَ غَیْرِہِ فِیْہِمَا، اِذَا فَاتَتَاہُ خِلَافُ حُکْمِہِ، فَلَیْسَ لِأَحَدٍ أَنْ یُصَلِّیَہُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، وَلَا أَنْ یَتَطَوَّعَ بَعْدَ الْعَصْرِ أَصْلًا .وَھٰذَا ہُوَ النَّظَرُ أَیْضًا، وَذٰلِکَ أَنَّ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الظُّہْرِ لَیْسَتَا فَرْضًا، فَإِذَا تُرِکَتَا حَتّٰی یُصَلِّیَ صَلَاۃَ الْعَصْرِ، فَإِنْ صُلِّیَتَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَإِنَّمَا تَطَوَّعَ بِہِمَا مُصَلِّیْہِمَا فِیْ غَیْرِ وَقْتِ تَطَوُّعٍ فَلِذٰلِکَ نَہَیْنَا أَحَدًا أَنْ یُصَلِّیَ بَعْدَ الْعَصْرِ تَطَوُّعًا وَجَعَلْنَا ہَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ وَغَیْرَہُمَا مِنْ سَائِرِ التَّطَوُّعِ فِیْ ذٰلِکَ سَوَائً .وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
١٧٩٣: ذکوان نے امّ سلمہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز ادا فرمائای پھر میرے گھر تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی تو میں نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ایسی نماز پڑھی جو آپ پہلے نہ پڑھتے تھے آپ نے فرمایا میرے پاس (صدقہ کا) مال آیا جس کی تقسیم نے مجھے مشغول کردیا یہ رکعتیں میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا پس اب میں نے ان کو پڑھا ہے میں نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم بھی سنت کے فوت ہونے پر ان کو قضاء کرلیا کریں آپ نے فرمایا نہیں۔ اس ارشاد میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کے بعد والی نماز کے قضاء کی بھی ممانعت فرمائی ہے۔ پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ ظہر کے بعد رکعات فوت شدہ کا حکم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے دوسروں سے الگ ہے۔ فلہذا کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ عصر کے بعد قضائِ نفل ادا کرے اور عصر کے بعد نفل تو بالکل نہ پڑھے۔ غور و فکر کا تقاضا بھی یہ ہے کیونکہ ظہر کے بعد والی رکعات فرض نہیں جب وہ رہ گئیں یہاں تک کہ عصر پڑھ چکا تو اب ان کو پڑھا جائے تو وہ نفل ہیں جو اپنے وقت کے علاوہ ادا کیے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سیھ ہم عصر کے بعد نوافل سے منع کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں ان دو رکعتوں اور دیگر نوافل کو ایک جیسا سمجھتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ ‘ـ ابو یوسف و محمد (رح) کا یہی قول ہے۔
تخریج : مسلم فی المسافرین ٢٩٧‘ مسند احمد ٦؍٣٠٠‘ ٣١٥۔
پس اس روایت سے ثابت ہوگیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قضا نوافل سنن سے بھی منع فرما دیا پس کسی کو سنت کی قضا بھی درست نہیں۔ ان کا پڑھنا یہ آپ کی خصوصیت ہوئی اب کسی کو جائز نہیں کہ وہ ان کو قضاء ہونے پر اس وقت ادا کرے اور نہ ہی عصر کے بعد نوافل پڑھے۔
نظر طحاوی (رح) :
تقاضائے نظر بھی یہی ہے کہ ظہر کے بعد وہ رکعات فرض نہیں جب وہ چھوٹ گئیں اور عصر کی نماز ادا کرچکا اگر عصر کے بعد پڑھے گا تو وہ سنت اپنے وقت میں سنت تھی وقت کے بعد نفل بن گئی اور نفل کا بالاتفاق عصر کے بعد پڑھنا ممنوع ہے پس ان دو رکعات کا عصر کے بعد ادا کرنا درست نہ ہوا امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول بھی یہی ہے۔
حاصل روایات : اس باب میں امام طحاوی (رح) نے عصر کے بعد پڑھے جانے والے نوافل یا سنت قضا کے مسئلہ کو دلائل سے خوب مبرہن کردیا اور صحابہ کرام ‘ تابعین کے اقوال و اعمال اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات سے اس کی ممانعت ثابت کردی۔ واللہ یہدی الی سبیل الرشاد۔