۱۸۰۰: حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ إِدْرِیْسَ، قَالَ : ثَنَا آدَم بْنُ أَبِیْ إِیَاسٍ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مَوْلٰی آلِ طَلْحَۃَ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ ابْنَ غَنِبَّۃَ یَقُوْلُ : أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَلَیْسَ فِی الْمَسْجِدِ أَحَدٌ إِلَّا الْمُؤَذِّنُ وَرَجُلٌ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، فَجَعَلَہُمَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ خَلْفَہُ، فَصَلّٰی بِہِمَا .ثُمَّ الْتَمَسْنَا حُکْمَ
ذٰلِکَ مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ فَرَأَیْنَا الْأَصْلَ أَنَّ الْاِمَامَ اِذَا صَلّٰی بِرَجُلٍ وَاحِدٍ أَقَامَہٗ عَنْ یَمِیْنِہٖ، وَبِذٰلِکَ جَائَ تِ السُّنَّۃُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَدِیْثِ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ.
١٨٠٠: سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عتبہ کو کہتے سنا جماعت کھڑی ہوگئی حالانکہ مسجد میں مؤذن اور ایک آدمی اور عمر (رض) کے سوا اور کوئی نہ تھا پس ان کو عمر (رض) نے اپنے پیچھے کھڑا کیا اور ان کو نماز پڑھائی۔ پھر ہم نے غور و فکر سے اس کا حکم ڈھونڈا ‘ چنانچہ ہم نے یہ اصول پایا کہ جب امام ایک شخص کو نماز پڑھائے تو اسے دائیں جانب کھڑا کرلے۔ حضرت انس (رض) کی حدیث میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنت طریقہ یہی وارد ہوا ہے۔
اس اثر سے سابقہ جواب کی تاکید و تائید ہوگئی۔
نظر طحاوی (رح) نمبر !: امام جب ایک آدمی کو نماز پڑھائے تو وہ اسے دائیں جانب کھڑا کرتا ہے اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہی ہے جیسا اس روایت میں ہے۔