۱۸۰۱: وَفِیْمَا حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ إِدْرِیْس، قَالَ : ثَنَا آدَم، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ : (أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُصَلِّیْ، فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہٖ، فَأَخْلَفَنِیْ فَجَعَلَنِیْ عَنْ یَمِیْنِہِ) .فَھٰذَا مَقَامُ الْوَاحِدِ مَعَ الْاِمَامِ .وَکَانَ اِذَا صَلّٰی بِثَلاَثَۃٍ أَقَامَہُمْ خَلْفَہُ .ھٰذَا لَا اخْتِلَافَ فِیْہِ بَیْنَ الْعُلَمَائِ، وَإِنَّمَا اخْتِلَافُہُمْ فِی الْاِثْنَیْنِ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : یُقِیْمُہُمَا حَیْثُ یُقِیْمُ الْوَاحِدَ .وَقَالَ : بَعْضُہُمْ یُقِیْمُہُمَا، حَیْثُ یُقِیْمُ الثَّلَاثَۃَ .فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ فِیْ ذٰلِکَ لِنَعْلَمَ، ہَلْ حُکْمُ الْاِثْنَیْنِ فِیْ ذٰلِکَ کَحُکْمِ الثَّلَاثَۃِ؟ أَوْ کَحُکْمِ الْوَاحِدِ؟ فَرَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ : (الْاِثْنَانِ فَمَا فَوْقَہُمَا جَمَاعَۃٌ) .
١٨٠١: سعید بن جبیر نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت آیا جب آپ نماز پڑھ رہے تھے میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا پس آپ نے مجھے اپنے پیچھے سے گزار کر اپنے دائیں جانب کرلیا۔ تو امام کے ساتھ ایک آدمی کے کھڑے ہونے کی جگہ یہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تین اشخاص کو نماز پڑھاتے تو ان کو پیچھے کھڑا کرتے۔ اس میں علماء کے درمیان کسی کو اختلاف نہیں ‘ اختلاف صرف دو کے متعلق ہے۔ بعض نے کہا کہ ان کو وہاں کھڑا کیا جائے جہاں ایک کو کھڑا کیا جاتا ہے اور دوسروں کا کہنا یہ ہے کہ ان دو کو تین کے کھڑے ہونے کی جگہ کھڑا کرے۔ پس ہم نے نظر و فکر سے اس کا حکم معلوم کرنا چاہا کہ دو اور تین کے حکم میں فرق ہے یا ایک جیسا ہے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (((الْاِثْنَانِ فَمَا فَوْقَہُمَا جَمَاعَۃٌ)) کہ دو اور ان سے اوپر جماعت کے حکم میں ہیں۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ٧٧‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ٤٤‘ نمبر ٩٧٣۔
اس روایت اور اس طرح کی دیگر روایات سے ایک مقتدی کے متعلق تو تمام کا اتفاق ہے اور تین کے متعلق بھی اتفاق ہے علماء کا اختلاف دو سے متعلق ہے بعض نے ایک کی جگہ کھڑا کرنے کا قول کیا اور دوسروں نے تین کی جگہ کھڑا کرنے کو کہا اب غور کرتے ہیں کہ دو کا حکم عام حالات میں کیا ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو یا دو سے زائد کو جماعت قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اس روایت میں ہے۔