hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1806

.

الطحاوي

1806
Al Tahawi
۱۸۰۶: وَحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : فَرَضَ اللّٰہُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا فِی الْحَضَرِ، وَرَکْعَتَیْنِ فِی السَّفَرِ، وَرَکْعَۃً فِی الْخَوْفِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ فَقَلَّدُوہُ، وَجَعَلُوْہُ أَصْلًا فَجَعَلُوْا صَلَاۃَ الْخَوْفِ رَکْعَۃً .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ اللّٰہَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : (وَإِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلَاۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِنْہُمْ مَعَک وَلْیَأْخُذُوْا أَسْلِحَتَہُمْ فَإِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَرَائِکُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَۃٌ أُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ) فَفَرَضَ اللّٰہُ - عَزَّ وَجَلَّ - صَلَاۃَ الْخَوْفِ، وَنَصُّ فَرْضِہَا فِی کِتَابِہٖ ھٰکَذَا .وَجَعَلَ صَلَاۃَ الطَّائِفَۃِ بَعْدَ تَمَامِ الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی مَعَ الْاِمَامِ .فَثَبَتَ بِھٰذَا أَنَّ الْاِمَامَ یُصَلِّیْہَا فِیْ حَالِ الْخَوْفِ رَکْعَتَیْنِ، وَھٰذَا خِلَافُ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، وَلَا یَجُوْزُ أَنْ یُؤْخَذَ بِحَدِیْثٍ یَدْفَعُہٗ نَصُّ الْکِتَابِ .ثُمَّ قَدْ عَارَضَہٗ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا غَیْرُہٗ .
١٨٠٦: مجاہد نے ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے چار رکعت حضر میں لازم کیں اور دو رکعت سفر اور خوف میں ایک رکعت لازم کی ہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے اس روایت کو اختیار کر کے اسے اصل قرار دیا اور انھوں نے نماز خوف کو ایک رکعت کہا۔ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلیل ہے : { و اذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلاۃ۔۔۔}(القرآن) ۔ ” اور جب آپ ان میں ہوں اور ان کو نماز پڑھانے لگیں تو ان کی ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیاروں کو تھامے رہیں۔ پس جب وہ سجدہ (ثانیہ) کر چکیں تو وہ پیچھے چلے جائیں تو دوسرا گروہ آجائے جنہوں کہ اب تک نماز نہیں پڑھی وہ آپ کے ساتھ نماز پڑھ لیں۔ “ (القرآن) ۔ اللہ تعالیٰ نے نماز خوف کو فرض قرار دیا اور قرآن مجید میں اس کی فرضیت اس طرح ذکر فرمائی اور اس طرح بتایا کہ ایک گروہ امام کے ساتھ پہلی رکعت کو اس طرح مکمل کرلے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ امام حالت خوف میں دو رکعت پڑھے اور یہ بات اس حدیث کے خلاف ہے اور ایسی روایت کو اختیار کرنا جائز نہیں جس کو قرآن مجید کی نص قبول نہ کرے۔ پھر اس کے معارض حضرت ابن عباس (رض) اور دیگر صحابہ کرام کی روایات ہیں۔
تخریج : صحیح مسلم فی المسافرین نمبر ٥‘ نسائی فی الصلاۃ باب ٣‘ صلوۃ خوف باب ٤۔
حاصل روایات : اس روایت میں صلوۃ خوف کی ایک رکعت کا صراحۃً ذکر ہے پس صلوۃ خوف ایک رکعت ہوگی۔
جواب : اللہ تعالیٰ نے نماز خوف کا قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے کہ امام ایک ایک طائفہ کو ایک ایک رکعت پڑھاتے تو صاف لفظوں میں نماز کا دو رکعت ہونا ثابت ہوگیا پس یہ روایت نص قرآنی کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں۔