hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1807

.

الطحاوي

1807
Al Tahawi
۱۸۰۷: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا قَبِیْصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : (صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذِیْ قَرَدٍ، صَلَاۃَ الْخَوْفِ . وَالْمُشْرِکُوْنَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ، فَصَفَّ صَفًّا خَلْفَہُ وَصَفًّا مُوَازِیَ الْعَدُوِّ، فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَۃً ثُمَّ ذَہَبَ ہٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ہٰؤُلَائِ وَرَجَعَ ہٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ہٰؤُلَائِ فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَۃً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَانِ وَلِکُلِّ طَائِفَۃٍ رَکْعَۃٌ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَدْ رَوٰی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مَا خَالَفَ مَا رَوٰی مُجَاہِدٌ عَنْہُ، وَمُحَالٌ أَنْ یَکُوْنَ الْفَرْضُ عَلَی الْاِمَامِ رَکْعَۃً فَیُصَلِّیَہَا بِأُخْرٰی بِلَا قُعُوْدٍ لِلتَّشَہُّدِ، وَلَا تَسْلِیْمٍ .فَلَمَّا تَضَادَّ الْخَبَرَانِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا تَنَافَیَا، وَلَمْ یَکُنْ لِأَحَدٍ أَنْ یَحْتَجَّ فِیْ ذٰلِکَ بِمُجَاہِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا؛ لِأَنَّ خَصْمَہٗ یَحْتَجُّ عَلَیْہِ بِعُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا بِخِلَافِ ذٰلِکَ .فَإِنْ قَالُوْا : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مَا یُوَافِقُ مَا قُلْنَا فَذَکَرُوْا۔
١٨٠٧ : عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذی قرد میں نماز خوف پڑھائی۔ اس وقت مشرک اور قبلہ کے درمیان حائل تھے۔ ایک صف نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے صف بنائی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے صف آراء ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلی جماعت کو ایک رکعت پڑھائی پھر دشمن کے سامنے چلے گئے اور دشمن کے مقابل صف نے آ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے صف باندھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو رکعت ہوئیں اور ہر جماعت کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ عبیداللہ بن عبداللہ ہیں جو کہ ابن عباس (رض) سے مجاہد کی روایت کے خلاف روایت کر رہے ہیں اور یہ بات ناممکن ہے کہ امام پر ایک رکعت فرض ہو مگر وہ اسے دوسری رکعت ملا کر بغیر تشہد و تسلیم کے ادا کرلے۔ جب ابن عباس (رض) سے ملنے والی دونوں روایات متضاد اور ایک دوسرے سے منافی ہیں تو کسی کو مجاہد والی روایت سے دلیل کا حق نہیں کیونکہ اس کا مقابل عبیداللہ کی ابن عباس (رض) والی مخالف روایت سے استدلال کرے گا۔ اگر بالفرض وہ یہ کہیں کہ ابن عباس (رض) سے اور حضرات نے بھی مجاہد والی روایت کی طرح روایت کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
تخریج : نسائی فی السنن الکبرٰی ‘ کتاب صلٰوۃ الخوف : ١٩٢١
نمبر ": حضرت ابن عباس (رض) سے عبیداللہ بن عبداللہ کی سند سے اس کے خلاف روایت منقول ہے ۔
امام طحاوی کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کی دو روایتیں ایک دوسرے سے متضاد ہوگئیں ان میں کسی ایک کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔
نمبر#: یہ بات ناممکن ہے کہ امام پر فرض ایک ہو اور وہ دو پڑھا لے اور اس ایک میں نہ قعدہ نہ تشہد نہ سلام۔
فان قالوا سے ایک سوال کا تذکرہ ہے۔
فقط اس روایت کی بات نہیں حذیفہ بن یمان ‘ زید بن ثابت ‘ جابر سہیل بن ابی حشمہ (رض) سے اس قسم کی روایات منقول ہیں۔ روایات ملاحظہ ہوں۔