۱۸۰۸: مَا حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا قَبِیْصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الرُّکَیْنِ بْنِ الرَّبِیْعِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانٍ، قَالَ : (أَتَیْت ابْنَ وَدِیْعَۃَ فَسَأَلْتہ عَنْ صَلَاۃِ الْخَوْفِ، فَقَالَ : إِیْت زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَاسْأَلْہُ، فَلَقِیْتَہٗ، فَسَأَلْتہ، فَقَالَ : صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فِیْ بَعْضِ أَیَّامِہِ، فَصَفَّ صَفًّا خَلْفَہُ، وَصَفًّا مُوَازِیَ الْعَدُوِّ، فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَۃً، ثُمَّ ذَہَبَ ہٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ہٰؤُلَائِ، وَجَائَ ہٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ہٰؤُلَائِ، فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَۃً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَیْہِمْ)
١٨٠٨: قاسم بن حسان کہتے ہیں کہ میں ابن ودیعہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے صلوۃ خوف کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے کہا تم زید بن ثابت کے پاس جا کر ان سے سوال کرو چنانچہ میں ان سے ملا تو انھوں نے فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز خوف بعض اوقات پڑھائی پس آپ کے پیچھے ایک جماعت نے صف باندھی اور ایک جماعت نے دشمن کے سامنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ چلی گئی اور ان کی جگہ صف بستہ ہوگئے دوسرا گروہ آیا اور ان کی جگہ صف بستہ ہوا تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیرا۔
تخریج : نسائی فی السنن الکبرٰی کتاب صلوۃ الخوف نمبر ١٩١٩۔