۱۸۲۴: حَدَّثَنَا أَبُوْ مُحَمَّدٍ فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْیَمَانِ، قَالَ : أَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سَالِمٌ أَنَّ عُمَرَ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَزْوَتَہُ قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَیْنَا الْعَدُوَّ .ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ .وَذَہَبَ آخَرُوْنَ فِیْ ذٰلِکَ إِلَی۔
١٨٢٤: سالم نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں اس غزوہ میں شرکت کی جو نجد کی جانب کیا پس دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ دیگر علماء ان روایات کی طرف گئے ہیں۔
تخریج : بخاری فی المغازی باب ٣٣۔
حاصل روایات : کہ نماز خوف کا طریقہ یہی ہے کہ امام ایک ایک رکعت دونوں گروہوں کو پڑھائے اور ایک ایک رکعت وہ الگ الگ پڑھیں گے کہ ایک گروہ پہلی رکعت میں شامل ہو اور دوسرا گروہ دوسری رکعت میں شامل ہوگا اس روایت کو ایک سند میں نافع نے شک سے نقل کیا مگر بعد والی روایات نے ثابت کردیا کہ ابن عمر (رض) یہ سب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے۔
فریق ثالث کا مؤقف اور مستدل روایات اور ان کے اجوبہ :
یہ قول امام مالک و شافعی و احمد (رح) کا ہے کہ امام ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائے پھر یہ ایک رکعت ملا کر سلام کے بغیر دشمن کی طرف جائیں امام منتظر رہے پھر دوسرا گروہ آ کر نماز میں شامل ہو۔ وہ ایک رکعت پڑھ کر دوسری رکعت خود ملائے پھر امام کے ساتھ سلام پھیریں پھر دوسرا گروہ آ کر تشہد سے الگ سلام پھیریں۔