۱۸۲۵: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ رُوْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ (عَمَّنْ صَلَّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاۃَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَۃً صَفَّتْ مَعَہُ وَطَائِفَۃً وِجَاہَ الْعَدُوِّ فَصَلّٰی بِاَلَّذِیْنَ مَعَہُ رَکْعَۃً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوْا لِأَنْفُسِہِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوْا فَصَفُّوْا وِجَاہَ الْعَدُوِّ، وَجَائَ تِ الطَّائِفَۃُ الْأُخْرٰی فَصَلّٰی بِہِمْ الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ بَقِیَتْ مِنْ صَلَاتِہٖ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا، وَأَتَمُّوْا لِأَنْفُسِہِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ بِہِمْ) .
١٨٢٥: یزید رومان نے صالح بن حوات (رض) سے نقل کیا یہ ان لوگوں سے ہیں جنہوں نے غزوہ ذات الرقاع میں صلوۃ خوف میں خود شمولیت کی ہے کہ ایک جماعت نے آپ کے ساتھ صف بندی کی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے رہی آپ نے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ کھڑے رہے اور انھوں نے اپنی رکعت ملا کر نماز پوری کرلی پھر یہ دشمن کی طرف چلے گئے اور صف بستہ ہوگئے دوسری جماعت آئی آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ کی نماز سے باقی تھی پھر آپ تشہد میں ٹھہرے رہے انھوں نے اپنی ایک رکعت مکمل کرلی پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
تخریج : بخاری فی المغازی باب ٣٣۔