hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1858

.

الطحاوي

1858
Al Tahawi
۱۸۵۸: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ قَالَ : ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ، فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ وَزَادَ : (فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَنَحْنُ خَلْفَہُ، یَجْہَرُ فِیْہِمَا بِالْقِرَائَ ۃِ، وَلَمْ یُؤَذِّنْ، وَلَمْ یُقِمْ) .وَلَمْ یَقُلْ (مِثْلَ صَلَاۃِ الْعِیْدَیْنِ) فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ قَوْلَہُ مِثْلَ صَلَاۃِ الْعِیْدَیْنِ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ إِنَّمَا أَرَادَ بِہٖ ھٰذَا الْمَعْنَی، أَنَّہٗ صَلّٰی بِلَا أَذَانٍ وَلَا إقَامَۃٍ، کَمَا یُفْعَلُ فِی الْعِیْدَیْنِ .
١٨٥٨: عبید بن اسحاق عطار کہتے ہیں کہ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بیان کیا پھر اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے۔ فصلی رکعتین الحدیث۔ کہ دو رکعت نماز ادا کی ہم آپ کے ساتھ تھے آپ نے اس میں جہراً قراءت فرمائی اذان نہیں دی گئی اور نہ اقامت کہی گئی اور اس روایت میں مثل صلوۃ العیدین کا جملہ بھی نہیں ہے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ روایت میں یہ الفاظ ” مثل صلوۃ العیدین “ ان کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے عیدین کی طرح بغیر اقامت اور اذان کے نماز ادا کی۔
تخریج : بیہقی ٣؍٤٨٤‘ ترمذی ١؍١٢٤۔
حاصل روایت یہ ہے کہ صلوۃ عیدین سے تشبیہہ کا مطلب وہی ہے جو اس روایت میں مذکور ہے کہ آپ نے بلااذان و اقامت اور جہری قراءت سے نماز ادا کی جس طرح کہ عیدین میں کیا جاتا ہے۔