۱۸۵۷: وَقَدْ حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑالْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسٰی قَالَ : ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ عَنْ ہِشَامٍ أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ کِنَانَۃَ مِنْ بَنِیْ مَالِکِ بْنِ شُرَحْبِیْلَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ : (أَرْسَلَنِی الْوَلِیْدُ بْنُ عُقْبَۃَ أَسْأَلُ لَہٗ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْاِسْتِسْقَائِ، فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَقُلْتُ : إِنَّا تَمَارَیْنَا فِی الْمَسْجِدِ فِیْ صَلَاۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْاِسْتِسْقَائِ قَالَ : لَا، وَلٰـکِنْ أَرْسَلَک ابْنُ أَخِیکُمَ الْوَلِیْدُ، وَہُوَ أَمِیْرُ الْمَدِیْنَۃِ وَلَوْ أَنَّہٗ أَرْسَلَ فَسَأَلَ مَا کَانَ بِذٰلِکَ بَأْسٌ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُبْتَذِلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا حَتّٰی أَتَی الْمُصَلّٰی فَلَمْ یَخْطُبْ خُطْبَتَکُمْ ھٰذِہِ، وَلٰـکِنْ لَمْ یَزَلْ فِی الدُّعَائِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّکْبِیْرِ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ کَمَا یُصَلِّیْ فِی الْعِیْدَیْنِ) .فَقَوْلُہٗ (کَمَا یُصَلِّیْ فِی الْعِیْدَیْنِ) یُحْتَمَلُ أَنَّہٗ جَہَرَ فِیْہِمَا کَمَا یَجْہَرُ فِی الْعِیْدَیْنِ .
١٨٥٧: ہشام نے بیان کیا کہ بنی مالک بن شرحبیل کے اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ سے بتلایا کہ مجھے ولید بن عقبہ (رض) نے بھیجا کہ میں ابن عباس (رض) سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے استسقاء کے سلسلہ میں دریافت کروں چنانچہ میں ابن عباس (رض) کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا ہم نے مسجد میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صلوۃ استسقاء کے متعلق اختلاف و بحث کی ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تمہیں تمہارے چچا زاد بھائی ولید نے بھیجا ہے وہ ان دنوں مدینہ کے گورنر تھے اگر وہ خود پیغام بھیج کر پوچھتا تو تب بھی اس میں قباحت نہ تھی پھر ابن عباس (رض) نے فرمایا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرانے کپڑوں میں تواضع اور تضرع کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ عید گاہ میں آئے اور تمہاری طرح کا خطبہ نہیں دیا بلکہ دعا اور گڑگڑانے اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے رہے پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی جیسے عیدین کی نماز ہوتی ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الاستسقاء باب ١‘ نمبر ١١٦٥‘ ترمذی فی الاستسقاء باب ٤٣‘ نمبر ٥٥٨۔
اللغات : کما یصلی فی العبدین۔ یہ جملہ دو احتمال رکھتا عیدین کے ساتھ جہر میں تشبیہہ دی یا تکبیرات زوائد میں اور خطبہ میں تشبیہ دی ہے۔