۱۸۶۴: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ، غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرَ الْجَہْرَ .فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ ذِکْرُ الْخُطْبَۃِ مَعَ ذِکْرِ الصَّلَاۃِ، فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ فِی الْاِسْتِسْقَائِ خُطْبَۃً، غَیْرَ أَنَّہٗ قَدْ اُخْتُلِفَ فِی خُطْبَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَتَی کَانَتْ .فَفِیْ حَدِیْثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ : أَنَّہٗ خَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاۃِ، وَفِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ، فَوَجَدْنَا الْجُمُعَۃَ فِیْہَا خُطْبَۃٌ وَہِیَ قَبْلَ الصَّلَاۃِ، وَرَأَیْنَا الْعِیْدَیْنِ فِیْہِمَا خُطْبَۃٌ وَہِیَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ کَذٰلِکَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُ .فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ فِی خُطْبَۃِ الْاِسْتِسْقَائِ بِأَیِّ الْخُطْبَتَیْنِ ہِیَ أَشْبَہُ؟ فَنَعْطِفُ حُکْمَہَا عَلَی حُکْمِہَا .فَرَأَیْنَا خُطْبَۃَ الْجُمُعَۃِ فَرْضًا، وَصَلَاۃُ الْجُمُعَۃِ مُضَمَّنَۃٌ بِہَا لَا تُجْزِیُٔ إِلَّا بِإِصَابَتِہَا، وَرَأَیْنَا خُطْبَۃَ الْعِیْدَیْنِ لَیْسَتْ کَذٰلِکَ لِأَنَّ صَلَاۃَ الْعِیْدَیْنِ تُجْزِیُٔ أَیْضًا وَإِنْ لَمْ یَخْطُبْ، وَرَأَیْنَا صَلَاۃَ الْاِسْتِسْقَائِ تُجْزِیُٔ أَیْضًا وَإِنْ لَمْ یَخْطُبْ .أَلَا تَرَیْ أَنَّ إِمَامًا لَوْ صَلّٰی بِالنَّاسِ فِی الْاِسْتِسْقَائِ وَلَمْ یَخْطُبْ کَانَتْ صَلَاتُہُ مُجْزِئَۃً غَیْرَ أَنَّہٗ قَدْ أَسَائَ فِیْ تَرْکِہِ الْخُطْبَۃَ فَکَانَتْ بِحُکْمِ خُطْبَۃِ الْعِیْدَیْنِ أَشْبَہَ مِنْہَا بِحُکْمِ خُطْبَۃِ الْجُمُعَۃِ .فَالنَّظَرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ مَوْضِعُہَا مِنْ صَلَاۃِ الْاِسْتِسْقَائِ مِثْلَ مَوْضِعِہَا مِنْ صَلَاۃِ الْعِیْدَیْنِ فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہَا بَعْدَ الصَّلَاۃِ لَا قَبْلَہَا .وَھٰذَا مَذْہَبُ أَبِیْ یُوْسُفَ . وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ عَمَّنْ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ صَلّٰی فِی الْاِسْتِسْقَائِ وَجَہَرَ بِالْقِرَائَ ۃِ .
١٨٦٤: ابن ابی الذئب نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی البتہ اس میں جہراً قراءت کا ذکر نہیں۔ ان روایات میں نماز کے ساتھ خطبہ کا بھی تذکرہ ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ نماز استسقاء میں خطبہ بھی ہے۔ اتنی بات ضرور ہے کہ خطبہ میں اختلاف ہے کہ آپ نے کس وقت خطبہ دیا۔ حضرت عبداللہ بن زید اور عائشہ صدیقہ (رض) کی روایت میں ہے کہ نماز سے پہلے دیا اور حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت بتلاتی ہے کہ خطبہ نماز کے بعد ارشاد فرمایا۔ پس ہم نے اس میں غور کیا تو دیکھا کہ جمعہ میں خطبہ ہے مگر نماز سے پہلے ہے اور عیدین کا خطبہ نماز کے بعد ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کرتے تھے۔ پھر ہم نے غور کیا کہ خطبہ استسقاء ان میں سے کس کے ساتھ مشابہہ ہے۔ آیا وہ خطبہ جمعہ کے مشابہہ ہے یا عیدین کے تاکہ اس کے مطابق اس پر حکم لگائیں۔ ہم نے دیکھا کہ خطبہ جمعہ تو نماز میں شامل اور فرض ہے اس کے بغیر نماز جمعہ جائز نہیں اور عیدین کا خطبہ اس کی طرح نہیں ہے۔ کیونکہ نماز عیدین اس کے بغیر بھی درست ہے خواہ خطبہ نہ دیا جائے اسی طرح نماز استسقاء بھی خطبہ کے بغیر بھی درست ہے۔ ذرا غور تو کرو اگر امام لوگوں کو نماز استسقاء پڑھائے اور خطبہ نہ بھی دے ‘ تب بھی نماز درست ہوجاتی البتہ ترک خطبہ اس کی غلطی ہے اور گناہ ہے۔ پس یہ خطبہ جمعہ کی بجائے عیدین کے خطبہ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے اس لیے اس کا خطبہ بھی وقت عیدین میں ہونا چاہیے یعنی نماز کے بعد۔ پس اس نظر سے ثابت ہوا کہ یہ خطبہ نماز کے بعد ہے نہ کہ پہلے۔ یہ امام ابویوسف (رح) کا مذہب ہے اور صحابہ کرام سے بھی مروی ہے کہ انھوں نے نماز استسقاء میں بلند آواز قراءت کی اور قراءت بھی بلند آواز سے پڑھی۔
حاصل روایات : ان روایات میں خطبہ نماز ‘ دعا ‘ قلب رداء کا تذکرہ پایا جاتا ہے خطبہ شروع میں بھی مذکور ہے اور بعد میں بھی مذکور ہے روایت حضرت عائشہ (رض) و عبداللہ بن زید (رض) میں خطبہ پہلے اور روایت ابوہریرہ (رض) میں بعد میں مذکور ہے۔
نظر طحاوی (رح) :
جب ہم نے غور کیا تو ہم نے عبادات میں جمعہ اور عیدین کو پایا جن میں خطبہ پایا جاتا ہے جمعہ کا خطبہ نماز سے پہلے اور عیدین کا خطبہ نماز کے بعد ہے یہ خطبہ استسقاء کی کس کے ساتھ مشابہت زیادہ ہے تو غور سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا خطبہ فرض ہے اور اس کے بغیر جمعہ ادا ہی نہیں ہوتا اور عیدین کا خطبہ مسنون ہے عید کی نماز اس کے بغیر بھی درست ہے اگرچہ خلاف سنت ہے چنانچہ نماز استسقاء کی زیادہ مشابہت خطبہ عید سے ہے کیونکہ یہ خطبہ کے بغیر بھی درست ہے اور (ایک صحابی نے بھی اس کو عیدین سے تشبیہ دی ہے) جب یہ خطبہ مقام و حیثیت میں عید کے مشابہہ ہے تو اس کی جگہ بھی وہی ہونی چاہیے جو خطبہ عیدین کا ہے کہ وہ نماز کے بعد دیا جاتا ہے نہ کہ پہلے اور یہ امام ابو یوسف (رح) کا مذہب ہے۔