۱۸۶۵: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ غَسَّانَ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ إِسْحَاقَ قَالَ : خَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ یَسْتَسْقِیْ، وَکَانَ قَدْ رَأَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَخَرَجَ فِیْمَنْ کَانَ مَعَہُ الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ، وَزَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ : أَبُوْ إِسْحَاقَ وَأَنَا مَعَہُ یَوْمَئِذٍ فَقَامَ قَائِمًا عَلٰی رَاحِلَتِہِ عَلٰی غَیْرِ مِنْبَرٍ وَاسْتَسْقَی وَاسْتَغْفَرَ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَنَحْنُ خَلْفَہُ فَجَہَرَ فِیْہِمَا بِالْقِرَائَ ۃِ وَلَمْ یُؤَذِّنْ یَوْمَئِذٍ وَلَمْ یُقِمْ .
١٨٦٥: ابو اسحاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن یزید (رض) استسقاء کے لیے تشریف لائے یہ صحابی ہیں ان نکلنے والوں میں ان کے ساتھ براء بن عازب ‘ زید بن ارقم (رض) بھی تھے اور ابو اسحاق کہتے ہیں میں بھی اس مجمع میں تھا عبداللہ بن یزید اپنی اونٹنی کے کجاوے پر کھڑے ہوئے منبر نہ تھا اور بارش کی دعا مانگی اور دو رکعت نماز ادا کی اس میں جہری قراءت کی ہم نماز میں موجود تھے نماز کے لیے اذان و اقامت نہ کہی گئی۔
تخریج : بخاری فی الاستسقاء باب ١٤‘ مسلم فی الاستسقاء نمبر ١٧۔