۱۸۹۷: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ وَفَہْدٌ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَیُّوْبَ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ أَوْ غَیْرِہٖ، قَالَ : (کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ وَیُسَلِّمُ وَیَسْأَلُ حَتَّی انْجَلَتْ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رِجَالًا یَزْعُمُوْنَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْکَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِیْمٍ مِنْ عُظَمَائِ أَہْلِ الْأَرْضِ وَلَیْسَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ، وَلَکِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ فَإِذَا تَجَلَّی اللّٰہُ لِشَیْئٍ مِنْ خَلْقِہِ خَشَعَ لَہٗ) .
١٨٩٧: ابو قلابہ نے حضرت نعمان بن بشیر (رض) یا دوسرے کسی صحابی سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سورج کو گہن لگ گیا پس آپ دو رکعت پڑھتے اور سلام پھیرتے اور پوچھتے رہے یہاں تک کہ گہن ختم ہوگیا پھر آپ نے فرمایا بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ سورج و چاند کو گہن کسی بڑے آدمی کی موت سے لگتا ہے حالانکہ یہ اس طرح درست نہیں بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جب اللہ تعالیٰ اپنی کسی مخلوق پر تجلی ڈالتے ہیں تو وہ اس کی عظمت کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی صلوۃ الکسوف باب ٩‘ نمبر ١١٩٣‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٥٢‘ نمبر ١٢٦٢۔