۱۸۹۸: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ، عَنْ زَائِدَۃَ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِیْرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ، قَالَ : (انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ یَوْمَ مَاتَ اِبْرَاہِیْمُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَصَلُّوْا وَادْعُوْا حَتّٰی یَنْکَشِفَ) .
١٨٩٨: زیاد بن علاقہ کہتے ہیں کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ (رض) سے سنا کہ سورج کو اس دن گہن لگا جس دن ابراہیم سلام اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں یہ کسی کی موت و زندگی سے گہن زدہ نہیں ہوتیں۔ پس جب تم ان کو اس حالت میں دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو یہاں تک کہ گہن کھل جائے۔
تخریج : بخاری فی الکسوف باب ١۔