۱۹۳۱: .حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَادِمٌ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : ثَنَا أَیُّوْبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ (ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، رَأٰی رَجُلًا یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ، فَدَفَعَہٗ وَقَالَ : أَتُصَلِّی الْجُمُعَۃَ أَرْبَعًا؟ .قَالَ : وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ فِیْ بَیْتِہٖ وَیَقُوْلُ : ھٰکَذَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : التَّطَوُّعُ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ الَّذِیْ لَا یَنْبَغِیْ تَرْکُہٗ سِتُّ رَکَعَاتٍ، أَرْبَعٌ ثُمَّ رَکْعَتَانِ .وَقَالُوْا : قَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا رَوَاہُ عَنْہُ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَوَّلًا ثُمَّ فَعَلَ مَا رَوٰی عَنْہُ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَکَانَ ذٰلِکَ زِیَادَۃً فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ قَوْلِہٖ. وَالدَّلِیْلُ عَلٰی مَا ذَہَبُوْا إِلَیْہِ مِنْ ذٰلِکَ۔
١٩٣١: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے دیکھا (اسی جگہ پر) تو انھوں نے اس کو دھکیلا کہ کیا تو جمعہ کو چار رکعت پڑھتا ہے ؟ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے اور کہتے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کیا۔ ایک اور جماعت نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے بعد جن رکعات نوافل کو چھوڑنا درست نہیں وہ چھ رکعت ہیں پہلے چار پڑھی جائیں اور دو بعد میں اور انھوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے وہ عمل کیا ہو جس کو ابوہریرہ (رض) نے آپ سے نقل اور پھر وہ عمل کیا ہو جو حضرت ابن عمر (رض) نے آپ سے نقل کیا۔ پس یہ ان کے پہلے قول میں اضافہ شمار ہوگا جیسا اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٢٣٨‘ نمبر ١١٢٧۔
فریق ثالث کا مؤقف :
نفلی نماز جمعہ کے بعد چھ رکعت ہیں پہلے دونوں فریق کے دلائل کا جواب ملاحظہ ہو۔
جواب : قد یحتمل سے بیان کیا کہ ابوہریرہ (رض) نے جو روایت کی ہے وہ پہلے ارشاد فرمایا پھر وہ کیا جو حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے پس یہ قول پر اضافہ ہوا اسی وجہ سے دونوں روایات کی تطبیق کا تقاضا بھی چھ رکعت ہیں۔ اس پر دلیل یہ ہے۔