۱۹۵۹: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ ثَنَا وَہْبٌ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ أَبِیْ ہَارُوْنَ الْغَنَوِیِّ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ الْوِتْرُ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَنْوَاعٍ : رَجُلٌ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّیْلِ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، وَرَجُلٌ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّیْلِ فَاسْتَیْقَظَ فَوَصَلَ إِلَی وِتْرِہِ رَکْعَۃً فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ، وَرَجُلٌ أَخَّرَ وِتْرَہُ إِلَی آخِرِ اللَّیْلِ .
١٩٥٩: حطان بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں وتر تین قسم پر ہیں۔
نمبر 1: ایک آدمی جس سے رات کے شروع حصہ میں وتر پڑھ لیے پھر وہ بیدار ہوا تو اس نے دو رکعتیں پڑھ لیں۔
نمبر 2: وہ آدمی جس نے رات کو وتر پڑھ لیے پھر صبح کو بیدار ہوگیا تو اس نے اپنے وتر کے ساتھ ایک رکعت ملا کر نفل بنا لیا پھر دو دو رکعت پڑھتا رہا پھر اس سے وتر دوبارہ پڑھے۔
نمبر 3: وہ آدمی جو اپنے وتر رات کے پچھلے حصہ میں پڑھتا ہے۔
تخریج : بیہقی فی السنن الکبرٰی ٣؍٣٧۔