۱۹۶۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرٍ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ، قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَۃَ وَمَالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ جُلَاسٍ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَمَّارٍ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ لَہٗ : کَیْفَ تُوْتِرُ؟ قَالَ : أَتَرْضٰی بِمَا أَصْنَعُ، قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : أَحْسَبُ قَتَادَۃَ قَالَ .فِیْ حَدِیْثِہٖ فَإِنِّیْ أُوْتِرُ بِلَیْلٍ بِخَمْسِ رَکَعَاتٍ، ثُمَّ أَرْقُدُ فَإِذَا قُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ شَفَعْتُ .
١٩٦٠: جلاس کہتے ہیں کہ میں حضرت عمار کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا تم وتر کیسے ادا کرتے ہو ؟ حضرت عمار کہنے لگے کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں جو کرتا ہوں وہ بتلاؤں اس نے ہاں میں جواب دیا۔ ہمام کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ قتادہ نے اپنی روایت میں اس طرح کہا میں رات کو پانچ رکعت وتر پڑھتا ہوں پھر میں سو جاتا ہوں پھر جب میں رات کو بیدار ہوتا ہوں تو شفعہ شفعہ پڑھتا ہوں۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٢؍٨٣۔