۱۹۸۷: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ، قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ : أَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لِکُلِّ سُوْرَۃٍ رَکْعَۃٌ) .قَالَ : فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِابْنِ سِیْرِیْنَ، فَقَالَ : أَسَمّٰی لَکَ مَنْ حَدَّثَہٗ؟ قُلْتُ : لَا، قَالَ : أَفَلاَ تَسْأَلُہٗ؟ .فَسَأَلْتُہٗ، فَقُلْتُ : مَنْ حَدَّثَکَ؟ فَقَالَ : إِنِّیْ لَأَعْلَمُ مَنْ حَدَّثَنِی، وَفِیْ أَیِّ مَکَان حَدَّثَنِی، وَقَدْ کُنْتُ أُصَلِّیْ بَیْنَ عِشْرِیْنَ، حَتّٰی بَلَغَنِی ھٰذَا الْحَدِیْثُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ إِلٰی ھٰذَا قَوْمٌ فَقَالُوْا : لَا یَنْبَغِیْ لِرَجُلٍ أَنْ یَزِیْدَ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ مِنْ صَلَاتِہِ عَلٰی سُوْرَۃٍ مَعَ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ، وَبِمَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
١٩٨٧: عاصم احول نے ابوالعالیہ سے نقل کیا وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر سورة کے لیے ایک رکعت ہے میں نے ان سے دریافت کیا تمہیں کس نے بیان کیا تو ابوالعالیہ کہنے لگے میں خوب جانتا ہوں جنہوں نے مجھے بیان کیا اور کسی جگہ میں مجھے بیان کیا میں بیس آدمیوں کے درمیان نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے یہ حدیث پہنچی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ کسی آدمی کو یہ مناسب نہیں کہ وہ ہر رکعت میں فاتحہ الکتاب کے ساتھ ایک سورة سے زیادہ پڑھے ‘ انھوں نے اس سلسلے میں اس روایت سے استدلال کیا جس کو حضرت ابن عمر (رض) نے نقل کیا ہے۔