hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1988

.

الطحاوي

1988
Al Tahawi
۱۹۸۸: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ لَبِیْبَۃَ قَالَ : قَالَ، رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : إِنِّیْ قَرَأْت الْمُفَصَّلَ فِیْ رَکْعَۃٍ، أَوْ قَالَ : " فِیْ لَیْلَۃٍ " .فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنَّ اللّٰہَ لَوْ شَائَ لَأَنْزَلَہُ جُمْلَۃً وَاحِدَۃً، وَلٰـکِنْ فَصَّلَہُ، لِتُعْطَی کُلُّ سُوْرَۃٍ حَظَّہَا مِنَ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ أَنْ یُصَلِّیَ الرَّجُلُ فِی الرَّکْعَۃِ الْوَاحِدَۃِ، مَا بَدَا لَہٗ مِنَ السُّوَرِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
١٩٨٨: ابن لبیبہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عمر (رض) کو کہا میں نے ایک رکعت میں مفصل پڑھی یا کہا کہ ایک رات میں تو ابن عمر (رض) کہنے لگے اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو قرآن مجید کو ایک مرتبہ اتار دیتا لیکن جدا جدا کر کے پڑھو تاکہ تمہاری ہر سورة کو رکوع و سجدہ میں حصہ مل سکے۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں کچھ بھی حرج نہیں کہ کوئی شخص اس میں جتنی سورتیں چاہے پڑھے۔ ان کا استدلال مندرجہ روایات سے ہے۔
تخریج : ٢؍١٤٩‘ عبدالرزاق۔
حاصل روایات : روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رکعت میں ایک سورة پڑھی جائے ورنہ سورة کو اس کے رکوع و سجود کا حصہ نہ ملے گا اسی وجہ سے کئی سورتوں کا جمع کرنا مکروہ ہے۔
مؤقف ِثانی : جتنی سورتیں چاہے ایک رکعت میں پڑھی جاسکتی ہیں اس میں کوئی کراہیت نہیں۔ دلائل یہ ہیں۔