۲۰۲۶: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَیْمٍ، قَالَ : أَتَیْتُ مَکَّۃَ، وَذٰلِکَ فِیْ رَمَضَانَ، فِیْ زَمَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، فَکَانَ الْاِمَامُ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فِی الْمَسْجِدِ، وَقَوْمٌ یُصَلُّوْنَ عَلَی حِدَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ .بِہٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ رَوَیْنَا عَنْہُمْ مَا رَوَیْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْآثَارِ، کُلُّہُمْ یُفَضِّلُ صَلَاتَہُ وَحْدَہُ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ، عَلَی صَلَاتِہٖ مَعَ الْاِمَامِ، وَذٰلِکَ ہُوَ الصَّوَابُ .
٢٠٢٦: اشعث بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ آیا اور یہ رمضان المبارک کے دن تھے اور حضرت عبداللہ بن زبیر کی حکومت کا زمانہ تھا مسجد میں امام لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا اور کچھ لوگ اکیلے مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔
حاصل روایات : آثار سے یہ بات واضح ہوئی کہ رمضان میں امام کے ساتھ نماز پڑھنے کی بجائے اکیلے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے اور یہی درست ہے۔
نتیجہ : ائمہ اربعہ جمہور صحابہ وتابعین کا مسلک یہی ہے کہ رمضان میں تراویح مسجد میں پڑھنا افضل ہے حضرت فاروق اعظم (رض) نے اپنے زمانے میں مسجد میں الگ جماعتوں میں پڑھنے والے صحابہ وتابعین کو ابی بن کعب اور تمیم داری کے پیچھے جمع کردیا تھا۔
نوٹ : اس باب میں امام طحاوی (رح) کا خود اپنا رجحان فریق ثانی کی طرف ہے اس لیے ان کے دلائل خوب زور دار انداز سے پیش کئے اگرچہ یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ لوگوں کی اکثریت رمضان میں امام کے پیچھے ہی قیام رمضان کرتی تھی بعض افراد کا یہ طرز عمل تھا جو انھوں نے نقل کیا جمہور کا مسلک اور تابعیں و صحابہ کی اکثریت وہ مسجد ہی میں قیام رمضان کرتے تھے ائمہ کے احترام کے طور پر اسماء گرامی ذکر کرنے کے بغیر اس باب میں مسالک کا تذکرہ کیا یہ باب بھی نظر سے خالی ہے۔