hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2027

.

الطحاوي

2027
Al Tahawi
۲۰۲۷:؟ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أَبُوْ صَخْرٍ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ قُسَیْطٍ، عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ : (عَرَضَتْ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّجْمُ فَلَمْ یَسْجُدْ أَحَدٌ مِنَّا) :
٢٠٢٧: خارجہ بن زید نے اپنے والد زید بن ثابت سے نقل کیا میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سورة نجم سنائی پس ہم میں سے کسی ایک نے بھی سجدہ نہیں کیا۔
تخریج : بخاری فی سجودالقرآن باب ٦‘ مسلم فی المساجد نمبر ١٠٦۔
یہ جلیل القدر صحابہ کرام (رض) ہیں جو سجدہ تلاوت کو واجب قرار نہیں دیتے۔ ہمارے نزدیک قیاس اسی بات کا متقاضی ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ جب مسافر آیت سجدہ تلاوت کرلے اور وہ سواری پر ہو تو وہ اشارہ کرلے اس پر ضروری نہیں کہ وہ زمین پر اتر کر سجدہ کرے اور یہ فصلت نفل میں ہے فرض میں نہیں ‘ اس لیے فرض نماز تو بالاتفاق زمین پر ادا ہوتی ہے اور نفل تو سواری کی حالت میں کیف ما تفق ادا ہوجائے۔ ہمارے ائمہ امام ابوحنیفہ ‘ ابویوسف ‘ محمد (رح) کے ہاں سجدہ تلاوت واجب ہے۔ ہم نے جو بیان کیا اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت ابی (رض) کی پیش کردہ روایت میں اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ مفصلات میں سجدہ نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے سجدہ سے متعلق کلا م میں کئی احتمالات ہیں جو ہم فصل اوّل میں ذکر کرچکے ان میں سے ایک کے مطابق معنی ہوگا جس کو ہم نے حضرت عمر ‘ سلمان ‘ ابن الزبیر (رض) سے بیان کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مفصل کے علاوہ سجدات کو بھی ان وجوہ سے چھوڑا ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابی (رض) نے جو رائے اختیار کی ہے اس کے خلاف صحابہ کرام کی ایک جماعت کے اقوال موجود ہیں جو درج ذیل ہیں۔
سجدہ تلاوت میں تین اختلاف ہیں۔
اختلاف اول : سنت ہے یا واجب۔ حضرت عمر (رض) ابن عمر (رض) امام مالک و شافعی و احمد (رح) کے ہاں سنت ہے۔ ابوحنیفہ (رح) کے ہاں واجب ہے۔
اختلاف دوم : کل قرآن میں کتنے سجدے ہیں امام احمد کے ہاں پندرہ ۔ امام مالک کے ہاں گیارہ۔ امام ابوحنیفہ و شافعی کے ہاں چودہ ہیں۔ البتہ ابوحنیفہ حج میں ایک سجدہ اور ایک ص میں مانتے ہیں امام شافعی دونوں حج میں مانتے ہیں۔
اختلاف سوم : مقصود باب یہی مسئلہ ہے امام مالک و حسن بصری (رح) مفصلات میں سجدہ کے قائل نہیں اسی لیے نجم ‘ انشقاق ‘ علق میں سجدہ نہیں امام ابوحنیفہ و شافعی و احمد (رح) مفصلات میں سجدہ کو لازم قرار دیتے ہیں۔
اختلاف سوم میں مؤقف فریق اوّل : مفصلات میں سجدہ نہیں ہے دلیل ملاحظہ ہو۔