hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2030

.

الطحاوي

2030
Al Tahawi
۲۰۳۰: وَحَدَّثَنَا فَہْدٌ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ قُسَیْطٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِہِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ إِلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ قَوْمٌ فَقَلَّدُوْہُ، فَلَمْ یَرَوْا فِی " النَّجْمِ " سَجْدَۃً .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا : بَلْ فِیْہَا سَجْدَۃٌ، وَلَیْسَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ دَلِیْلٌ - عِنْدَنَا - عَلٰی أَنَّہٗ لَا سُجُوْدَ فِیْہَا، لِأَنَّہٗ قَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ تَرْکُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السُّجُوْدَ فِیْہَا حِیْنَئِذٍ ؛ لِأَنَّہٗ کَانَ عَلٰی غَیْرِ وُضُوْئٍ فَلَمْ یَسْجُدْ لِذٰلِکَ .وَیُحْتَمَلُ أَنَّہٗ تَرَکَہٗ لِأَنَّہٗ کَانَ فِیْ وَقْتٍ لَا یَحِلُّ فِیْہِ السُّجُوْدُ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ تَرْکُہُ، لِأَنَّ الْحُکْمَ کَانَ عِنْدَہٗ فِیْ سُجُوْدِ التِّلَاوَۃِ، أَنَّ مَنْ شَائَ سَجَدَ، وَمَنْ شَائَ تَرَکَہُ، وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ تَرَکَہُ، لِأَنَّہٗ لَا سُجُوْدَ فِیْہَا .فَلَمَّا احْتَمَلَ تَرْکُہُ لِلسُّجُوْدِ کُلَّ مَعْنَی مِنْ ھٰذِہِ الْمَعَانِیْ، لَمْ یَکُنْ ھٰذَا الْحَدِیْثُ بِمَعْنًی مِنْہَا، أَوْلٰی مِنْ صَاحِبِہٖ إِلَّا بِدَلَالَۃٍ تَدُلُّ عَلَیْہِ مِنْ غَیْرِہٖ .وَلَکِنَّا نَحْتَاجُ إِلٰی أَنْ نُفَتِّشَ مَا بَعْدَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ مِنَ الْأَحَادِیْثِ لِنَلْتَمِسَ حُکْمَ ھٰذِہِ السُّوْرَۃِ، ہَلْ فِیْہَا سُجُوْدٌ أَوْ لَا سُجُوْدَ فِیْہَا .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ فَإِذَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ .ح .
٢٠٣٠: عطاء بن یسار نے زید بن ثابت (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ بعض علماء نے گزشتہ آثار کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ سورة نجم میں سجدہ نہیں ہے۔ مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سجدہ لازم ہے اور روایات بالا میں سورة نجم میں سجدہ کے نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس میں کئی احتمالات ہیں : (١) آپ نے اس وقت سجدہ وضوء کی حالت نہ ہونے کی وجہ سے ترک کیا ہو (٢) وہ ایسا وقت ہو جس میں سجدہ جائز نہ ہو (٣) اس لیے چھوڑ دیا کہ آپ کے ہاں سجدہ کا اس وقت یہ ہو کہ جو چاہے اس کو کرلے اور جو چاہے چھوڑ دے (٤) یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں سجدہ اس لیے ترک کیا کہ اس میں سجدہ نہیں۔ جب سجدہ کے ترک میں یہ تمام احتمالات جاری ہیں اور یہ روایت دوسری روایات سے اولیٰ اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اس میں ایسی دلالت نہ ہو جو اسے دوسری سے راجح بنا دے۔ لیکن اس کے لیے ان احادیث کو دیکھنا اور تلاش کرنا ہوگا جو اس میں سجدہ کے ہونے نہ ہونے پر دلالت کریں۔ روایات ذیل پر نظر ڈالیں۔
تخریج : نسائی ١؍١٥٢‘ مسلم ١؍٢١٥‘ نحوہ۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور صحابہ کرام نے سجدہ نہیں کیا تو سورة نجم میں سجدہ نہیں کیا اور تمام مفصلات کا حکم یکساں ہے۔
جواب دلیل بالا : اس روایت میں ان کے مؤقف کی ہمارے نزدیک کوئی دلیل نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دلیل میں احتمالات ہیں۔
احتمال نمبر 1: ممکن ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ اس لیے چھوڑ دیا ہو کہ آپ وضو کی حالت میں نہ ہوں پس سجدہ نہیں کیا۔
احتمال نمبر 2: اس لیے چھوڑا کہ وہ ایسا وقت تھا جس میں سجدہ درست نہیں۔
احتمال نمبر 3: اس لیے چھوڑا کہ سجدہ تلاوت کا حکم آپ کے ہاں یہ ہو کہ جو چاہے سجدہ کرے جو چاہے چھوڑ دے۔
احتمال نمبر 4: آپ نے اس لیے چھوڑا ہو کہ اس سورت میں سجدہ نہیں۔ جب اس روایت میں یہ چاروں احتمال یکساں طور پر ثابت ہو رہے ہیں تو کسی ایک احتمال کو ترجیح دینے کے لیے دلیل راجح کی ضرورت ہے۔
تعین احتمال کے لیے دلیل کی تلاش :
ہم نے ایک احتمال کے متعین کرنے کے لیے دلیل کی تلاش کی تو ایسی روایات مل گئیں جو سورة النجم میں سجدہ کو ثابت کرتی ہیں چنانچہ ملاحظہ ہو۔