۲۰۳۱: وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ، قَالَا : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَأَ وَالنَّجْمِ فَسَجَدَ فِیْہَا، فَلَمْ یَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا سَجَدَ، إِلَّا شَیْخٌ کَبِیْرٌ، أَخَذَ کَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَقَالَ : ھٰذَا یَکْفِیْنِیْ .قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : وَلَقَدْ رَأَیْتَہٗ بَعْدُ، قُتِلَ کَافِرًا) .
٢٠٣١: اسود نے عبداللہ سے بیان کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة نجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور جتنے لوگ موجود تھے سب نے سجدہ کیا پس ایک بڈھا رہ گیا جس نے مٹی کی ایک مٹھی لے کر اپنے ماتھے سے لگائی اور کہنے لگا مجھے یہی کافی ہے عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کو بعد میں کفر کی حالت میں قتل ہوتے دیکھا۔
تخریج : بخاری فی سجود القرآن باب ١‘ مسلم فی المساجد نمبر ١٠٥۔