۲۰۳۷: حَدَّثَنَا فَہْدٌ، قَالَ : ثَنَا الْحِمَّانِیُّ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوٗسٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ وَدَاعَۃَ، قَالَ : (رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَأَ النَّجْمَ بِمَکَّۃَ، فَسَجَدَ، فَلَمْ أَسْجُدْ مَعَہُ لِأَنِّی کُنْتُ عَلٰی غَیْرِ الْاِسْلَامِ، فَلَنْ أَدَعَہَا أَبَدًا) .فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ تَحْقِیْقُ السُّجُوْدِ فِیْہَا، وَلَیْسَ فِیْمَا ذَکَرْنَا فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ، مَا یَنْفِیْ أَنْ یَکُوْنَ فِیْہَا سَجْدَۃٌ فَھٰذِہِ أَوْلَی، لِأَنَّہٗ لَا یَجُوْزُ أَنْ یُسْجَدَ فِیْ غَیْرِ مَوْضِعِ سُجُوْدٍ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یُتْرَکَ السُّجُوْدُ فِیْ مَوْضِعِہٖ‘ لِعَارِضٍ مِنَ الْعَوَارِضِ الَّتِیْ ذَکَرْنَاہَا فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَإِنَّ فِیْ ذٰلِکَ دَلَالَۃً أَیْضًا تَدُلُّ عَلٰی أَنْ لَا سُجُوْدَ فِیْہَا، فَذَکَرَ۔
٢٠٣٧: عکرمہ بن خالد نے مطلب بن وداعہ (رض) سے بیان کیا کہ میں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے مکہ میں سورة نجم پڑھی اور سجدہ کیا پس میں نے آپ کے ساتھ سجدہ نہ کیا کیونکہ میں اسلام پر نہ تھا (اب) ہرگز میں اس کو نہ چھوڑوں گا۔ ان روایات سے اس میں سجدہ کا وجود ثابت ہوا۔ فصل اوّل میں جو روایات مذکور ہیں وہ سجدہ ہونے کے منافی نہیں ہیں۔ پس یہ بہتر ہے اس لیے کہ جو سجدے کا موقع نہ ہو وہاں سجدہ جائز نہیں اور یہ تو ممکن ہے کہ عارضہ کی وجہ سے کسی سجدہ کو چھوڑ دیا جائے وہ عوارض جن کا تذکرہ ہم فصل اول میں کرچکے۔ اگر کسی کو یہ اعتراض ہو اس میں بھی تو اس میں سجدہ نہ ہونے کی دلالت موجود ہے۔ روایت درج ذیل ہے۔
تخریج : نسائی فی الافتتاح باب ٤٩‘ مسند احمد ٣؍٤٢٠‘ مصنف عبدالرزاق ٥٨٨١‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ٢؍٣١٤۔
سوال : سورة النجم کے متعلق سجدہ نہ ہونے کی دلالت واضحہ موجود ہے یہ روایت ملاحظہ ہو۔