hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2038

.

الطحاوي

2038
Al Tahawi
۲۰۳۸: مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ اللِّہْبِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِیْ فُدَیْکٍ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ دَاوٗدَ بْنُ قَیْسٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہٗ سَأَلَ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ : ہَلْ فِی الْمُفَصَّلِ سَجْدَۃٌ؟ قَالَ : لَا .قَالَ : فَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ قَدْ قَرَأَ عَلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ کُلَّہُ، فَلَوْ کَانَ فِی الْمُفَصَّلِ سُجُوْدٌ اِذًا لَعَلَّمَہُ سُجُوْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِ، لِمَا أَتَی عَلَیْہِ فِی تِلَاوَتِہٖ وَلَا حُجَّۃَ لَہٗ فِیْ ھٰذَا - عِنْدَنَا - لِأَنَّہٗ قَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ ذٰلِکَ فِیْہِ، لِمَعْنًی مِنَ الْمَعَانِی الَّتِیْ ذَکَرْنَاہَا فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ .وَقَدْ ذَہَبَ جَمَاعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سُجُوْدِ التِّلَاوَۃِ إِلٰی أَنَّہٗ غَیْرُ وَاجِبٍ، وَإِلٰی أَنَّ التَّالِیَ لَا یَضُرُّہٗ أَنْ لَا یَفْعَلَہٗ .فَمِمَّا رُوِیَ عَنْہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ۔
٢٠٣٨: عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب (رض) سے پوچھا کیا مفصلات میں سجدہ ہے انھوں نے فرمایا نہیں۔ معترض کہتے ہیں یہ لو ابی بن کعب (رض) ہیں جن پر جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سارا قرآن مجید پڑھا ‘ اگر مفصل میں سجدہ ہوتا تو وہ اس سجدہ کو ضرور جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سجدہ سے جان لیتے۔ (امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں) ہمارے ہاں معترض کے لیے اس میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گزشتہ عوارض مذکورہ میں کسی کی بناء پر سجدہ کو ترک فرمایا ہو۔ صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت کہتی ہے کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں اور اگر تلاوت کرنے والا بھی نہ کرے تو تب بھی اس کو کچھ نقصان نہیں۔ روایات ذیل میں ہیں۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ ٢؍٦۔
یہ ابی بن کعب ہیں جنہوں نے مکمل قرآن مجید نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پڑھا اور آپ کو سنایا ہے اگر نجم میں سجدہ ہوتا تو ابن ابی کعب مفصلات میں سجدہ کا چنداں انکار نہ کرتے۔
الجواب نمبر 1: اس اشکال کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ پڑھاتے یا سنتے وقت گزشتہ احتمالات میں سے کسی ایک کی وجہ سے سجدہ نہ کیا ہو تو یہ بات سجدہ نہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔
جواب نمبر 2: بعض صحابہ کرام (رض) کا یہ قول ہے کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں اور تلاوت کرنے والا اگر اسے نہ کرے تو اس پر کچھ حرج نہیں شاید کہ حضرت ابی بن کعب (رض) نے اسی وجہ سے سجدہ نہ کیا ہو چنانچہ حضرت عمر ‘ سلمان ‘ ابن زبیر (رض) کی روایات ہم پیش کرتے ہیں۔