hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2095

.

الطحاوي

2095
Al Tahawi
۲۰۹۵: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلٰی الثَّعْلَبِیِّ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ فِیْ سُجُوْدِ (الْحَجِّ) الْأَوَّلُ عَزِیمَۃٌ وَالْآخَرُ تَعْلِیْمٌ فَبِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ھٰذَا نَأْخُذُ .وَجَمِیْعُ مَا ذَہَبْنَا إِلَیْہِ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ مِمَّا جَائَ تْ بِہٖ الْآثَارُ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی.
٢٠٩٥: سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ سورة حج کا پہلا سجدہ لازم ہے اور دوسرا تعلیم کے لیے ہے۔ پس ہم ابن عباس (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ اس باب میں جو مسائل آئے جو آثار صحابہ کرام سے مؤید ہیں وہ امام ابوحنیفہ ‘ ابویوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٣٧٣۔ حاصل روایات : ان روایات میں حضرت عمر ‘ ابن عمر ‘ ابوالدرداء (رض) دو دو سجدے حج میں کرتے تھے البتہ ابن عباس (رض) اول سجدہ کو لازم قرار دیتے اور دوسرے کو تعلیم کے لیے کہتے تھے آثار صحابہ کے اس اختلاف میں ہم نے اثر ابن عباس (رض) کو ترجیح دی کہ وہ نظر کے بھی موافق ہے۔
اس باب میں جو آثار وارد ہوئے اور ہم نے اس کو راجح قرار دیا وہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب میں خوب درخوب تفصیلات ذکر کر کے امام صاحب (رح) کے مسلک کو راجح قرار دیا اور اپنی رائے بھی طحاوی (رح) کی اس کے موافق تھی تو بار بار کثرت روایات کی حمایت کی وجہ سے امام صاحب کا تذکرہ فرمایا نظری دلیل کو پیش کر کے اس کا حدود اربعہ بھی بتلایا کہ روایات کے مقابل ہم نظری دلیل نہیں مانتے مگر پھر اختلاف روایات میں ترجیح کے لیے نظری دلیل کو استعمال کرتے ہیں۔