hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2096

.

الطحاوي

2096
Al Tahawi
۲۰۹۶: َدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ‘ قَالَ : ثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ‘ عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ الدِّیْلِیِّ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ (عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ رَآہُ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ‘ قَالَ : فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَقُمْ لِلصَّلَاۃِ‘ فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہٗ قَالَ لِیْ : أَلَسْت مُسْلِمًا؟ قُلْتُ : بَلَی‘ قَالَ : فَمَا مَنَعَک‘ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَنَا؟ فَقُلْتُ : قَدْ کُنْتُ صَلَّیْتُ مَعَ أَہْلِیْ فَقَالَ : صَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ کُنْتُ قَدْ صَلَّیْتَ مَعَ أَہْلِکَ) .
٢٠٩٦: بسر بن محجن دئلی نے اپنے والد محجن (رض) سے انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا ادھر جماعت کھڑی ہوگئی اور میں اس دوران بیٹھا رہا اور جماعت میں شامل نہ ہوا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا کیا تم مسلمان نہیں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں فرمایا پھر تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ میں نے کہا میں گھر میں نماز پڑھ چکا تھا آپ نے فرمایا لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو خواہ گھر میں نماز پڑھ چکے ہو۔
تخریج : نسائی فی السنن الکبرٰی باب الامامہ والجماعہ ٩٣٠‘ عبدالرزاق ٢؍٤٢٠۔
خلاصہ الزام : جو آدمی گھر میں یہ سمجھ کر فرض پڑھ لے کہ مسجد میں جماعت ہوچکی تو وہ مسجد میں آیا تو لوگ نماز میں مصروف تھے اب وہ نماز میں شرکت کرسکتا ہے یا نہیں۔
نمبر 1: امام شافعی (رح) و احمد (رح) فرماتے ہیں پانچوں نمازوں میں شرکت کرسکتا ہے۔
نمبر 2: امام ابوحنیفہ (رح) و ابو یوسف (رح) و محمد (رح) کے ہاں فجر و مغرب عصر میں شرکت نہیں کرسکتا ظہر و عشاء میں شرکت کرسکتا ہے فجر و عصر کے بعد تو نفل جائز نہیں اور تین رکعت نفل نہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور ان کی مستدل روایات : اگر اکیلے نماز پڑھ لی جائے تو جماعت مل جانے کی صورت دوبارہ اس میں شرکت کرسکتے ہیں خواہ کوئی نماز ہو۔ یہ احناف کے علاوہ جملہ ائمہ کا مسلک ہے بس تعداد نماز میں ذرا اختلاف ہے۔ دلیل۔