۲۱۱۴: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ ہِشَامٍ الرُّعَیْنِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ‘ قَالَ : أَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ عِجْلَانَ‘ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَخْبَرَہٗ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ‘ أَنَّ (رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ‘ فَنَادَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَمَا زَالَ یَقُوْلُ اُدْنُ حَتّٰی دَنَا‘ فَأَمَرَہٗ، فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یَجْلِسَ وَعَلَیْہِ خِرْقَۃُ خَلَقٍ‘ ثُمَّ صَنَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ فِی الثَّانِیَۃِ‘ فَأَمَرَہٗ بِمِثْلِ ذٰلِکَ‘ ثُمَّ صَنَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ فِی الْجُمُعَۃِ الثَّالِثَۃِ‘ فَأَمَرَہٗ بِمِثْلِ ذٰلِکَ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ تَصَدَّقُوْا فَأَلْقَوا الثِّیَابَ‘ فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَخْذِ ثَوْبَیْنِ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ یَتَصَدَّقُوْا‘ فَأَلْقَی الرَّجُلُ أَحَدَ ثَوْبَیْہِ‘ فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ ثُمَّ أَمَرَہٗ أَنْ یَأْخُذَ ثَوْبَہٗ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ مَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ یَخْطُبُ‘ فَیَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَرْکَعَ رَکْعَتَیْنِ یَتَجَوَّزُ فِیْہِمَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : یَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَجْلِسَ وَلَا یَرْکَعُ‘ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ سُلَیْکًا بِمَا أَمَرَہٗ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ‘ فَقَطَعَ بِذٰلِکَ خُطْبَتَہُ إرَادَۃً مِنْہُ أَنْ یُعَلِّمَ النَّاسَ کَیْفَ یَفْعَلُوْنَ اِذَا دَخَلُوْا الْمَسْجِدَ‘ ثُمَّ اسْتَأْنَفَ الْخُطْبَۃَ .وَیَجُوْزُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ بَنَیْ عَلٰی خُطْبَتِہٖ‘ وَکَانَ ذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یُنْسَخَ الْکَلَامُ فِی الصَّلَاۃِ‘ ثُمَّ نُسِخَ الْکَلَامُ فِی الصَّلَاۃِ‘ فَنُسِخَ أَیْضًا فِی الْخُطْبَۃِ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ مَا أَمَرَہٗ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ‘ کَمَا قَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلَی‘ وَیَکُوْنَ سُنَّۃً مَعْمُوْلًا بِہَا .فَنَظَرْنَا‘ ہَلْ رُوِیَ شَیْئٌ یُخَالِفُ ذٰلِکَ؟
٢١١٤: عیاض بن عبداللہ بتلاتے ہیں کہ حضرت ابو سعید الخدری (رض) نے بیان فرمایا کہ ایک آدمی مسجد میں اس حال میں داخل ہوا جبکہ آپ منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ نے اس کو آواز دی اور فرماتے رہے اور قریب آ اور قریب آ۔ یہاں تک کہ وہ قریب آگیا تو اس کو فرمایا پس اس نے دو رکعت بیٹھنے سے پہلے پڑھیں اور اس کا لباس پھٹے پرانے چیتھڑے تھے پھر اس نے اسی طرح کیا تو آپ نے اس کو اسی طرح حکم دیا پھر اس نے تیسرے جمعہ اسی طرح کیا تو آپ نے اس کو یہی حکم فرمایا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو صدقہ کا حکم فرمایا لوگوں نے کپڑے ڈالے تو آپ نے اس کو دو کپڑے عنایت فرمائے پھر جب آپ نے دوبارہ صدقہ کا حکم فرمایا تو اس نے اپنا ایک کپڑا ڈال دیا آپ نے ناراضی کا اظہار فرمایا اور اسے لینے کا حکم فرمایا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ جمعہ کے دن جو شخص مسجد میں ایسے حال میں آئے کہ جب امام خطبہ میں مصروف ہو تو وہ اس وقت بھی مختصر طور پر دو رکعات پڑھے۔ ان کی مندرجہ بالا روایات ہیں۔ مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس کو مناسب یہ ہے کہ اس وقت جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو ‘ بیٹھ جائے اور نفل نہ پڑھے انھوں نے اس کی دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلیک (رض) کو حکم دیتے ہوئے خطبہ روک دیا ہو تاکہ لوگوں کو مسئلہ معلوم ہوجائے کہ داخلہ مسجد کے وقت کیا کرنا چاہیے۔ پھر آپ نے نئے سرے سے خطبہ کو شروع فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ سابقہ خطبہ پر بناء کی ہو ‘ اور یہ واقعہ نماز میں کلام کے نسخ ہونے سے پہلے کا ہو۔ نماز میں کلام جب منسوخ ہوا تو خطبہ میں کلام بھی منسوخ ہوگیا اور عین ممکن ہے کہ آپ نے اس کو اس بناء پر ہی حکم دیا ہو جو قول اوّل فصل اوّل والوں نے بات کہی ہے اور عمل بھی اسی طریق پر ہو۔ چنانچہ اب ہم روایات کو دیکھتے ہیں کہ اس کے موافق یا مخالف عمل تھا۔
تخریج : ترمذی فی ابواب الجمعہ باب ١٥‘ نمبر ٥١١‘ نسائی فی السنن الکبرٰی کتاب الجمعہ نمبر ١٧١٩‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ٨٧‘ نمبر ١١١٣۔
حاصل روایات : جو آدمی جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے وقت آئے اسے دو ہلکی پھلکی رکعت پڑھ کر بیٹھنا چاہیے جیسا کہ ان روایات میں مذکور ہے معلوم ہوا کہ یہ دو رکعت تحیۃ المسجد ضروری ہیں۔
مؤقف فریق ثانی اور ان کے دلائل و جوابات : خطبہ کے دوران آنے والے کو بیٹھنا لازم ہے تحیۃ المسجد نہیں پڑھ سکتا ممنوع ہیں اولاً ان کے مؤقف کا جواب دیا جاتا ہے پھر دلیل پیش کی جائے گی۔
جواب نمبر 1: جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلیک کو جب حکم فرمایا تو خطبہ کا ارادہ منقطع فرما دیا اور لوگوں کو مسجد میں آنے کے آداب سکھانے لگے کہ جب وہ مسجد میں آئیں تو پہلے انھیں کیا کرنا چاہیے۔
نمبر 2: آپ نے اپنے سابقہ خطبہ پر بنا کی ہو اور یہ واقعہ نماز اور خطبہ میں کلام کے منسوخ ہونے سے پہلے کا ہو۔
نمبر 3: اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوران خطبہ آپ نے حکم دیا اور یہ اس کے لیے لازم ہوگیا۔
اب غور کرتے ہیں کیا اس کے مخالف روایات موجود ہیں۔ روایت ملاحظہ فرمائیں۔