۲۱۱۵: فَإِذَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَدْ حَدَّثَنَا‘ قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ صَالِحٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی الزَّاہِرِیَّۃِ‘ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْن بُسْرٍ‘ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا إِلَی جَنْبِہٖ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ‘ فَقَالَ : جَائَ رَجُلٌ یَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ .فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ فَقَدْ آذَیْت وَآنَیْت قَالَ أَبُوْ الزَّاہِرِیَّۃِ : وَکُنَّا نَتَحَدَّثُ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ) أَفَلاَ تَرَیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ھٰذَا الرَّجُلَ بِالْجُلُوْسِ‘ وَلَمْ یَأْمُرْہُ بِالصَّلَاۃِ‘ فَھٰذَا یُخَالِفُ حَدِیْثَ سُلَیْکٍ‘ وَفِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ سَعِیْدِ ڑالَّذِیْ رَوَیْنَاہٗ، فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ‘ مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ فِیْ حَالِ اِبَاحَۃِ الْأَفْعَالِ فِی الْخُطْبَۃِ قَبْلَ أَنْ یَنْہَیْ عَنْہَا‘ أَلَا تَرَاہُ یَقُوْلُ : (فَأَلْقَی النَّاسُ ثِیَابَہُمْ) .وَقَدْ أَجْمَعَ الْمُسْلِمُوْنَ أَنَّ نَزْعَ الرَّجُلِ ثَوْبَہٗ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ مَکْرُوْہٌ‘ وَأَنَّ مَسَّہُ الْحَصَی وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ مَکْرُوْہٌ‘ وَأَنَّ قَوْلَہُ لِصَاحِبِہٖ (أَنْصِتْ) وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ مَکْرُوْہٌ أَیْضًا .فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ مَا کَانَ أَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُلَیْکًا‘ وَالرَّجُلَ الَّذِیْ أَمَرَہٗ بِالصَّدَقَۃِ عَلَیْہِ‘ کَانَ فِیْ حَالِ ڑ الْحُکْمُ فِیْہَا فِیْ ذٰلِکَ‘ بِخِلَافِ الْحُکْمِ فِیْمَا بَعْدُ .وَلَقَدْ تَوَاتَرَتْ الرِّوَایَاتُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ (مَنْ قَالَ لِصَاحِبِہٖ أَنْصِتْ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ‘ فَقَدْ لَغَا) .
٢١١٥: ابوالزاہریہ حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن آپ کے پہلو میں بیٹھتا تھا کہ ایک آدمی لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا بیٹھ جاؤ تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی اور تو آیا (یعنی دیر سے) ابوالزاہریہ کہتے ہیں ہم امام کے نکلتے تک بات کرتے تھے۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو اس کو بیٹھ جانے کا حکم فرمایا نہ کہ نماز پڑھنے کا ‘ تو یہ روایت حضرت سلیک (رض) والی روایت کے خلاف ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری (رض) والی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب خطبہ میں عمل جائز تھا اور اس کی ممانعت نہ کی گئی تھی۔ کیا تم یہ بات نہیں دیکھ پاتے کہ وہ کہہ رہے ہیں ” فالقی الناس ثیابھم “ کہ لوگوں نے کپڑے ڈال دیے۔ حالانکہ اس بات پر تو سب مسلمان متفق ہیں کہ آدمی کا اپنے کپڑے ایسے حال میں اتارنا کہ امام خطبہ دے رہا ہو ‘ مکروہ ہے۔ بلکہ دوران خطبہ کنکروں کو چھونا مکروہ ہے اور خطبہ کے درمیان اپنے ساتھی کو یہ کہہ کر خطاب کرنا کہ خاموش ہو جاؤ یہ مکروہ ہے۔ یہ اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلیک (رض) کو جو حکم فرمایا اور وہ شخص جس کو اس کے لیے کپڑے دینے کا حکم فرمایا یہ اس حکم کے دوران تھا بخلاف اس حکم کے جو اس کے بعد تھا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تواتر کے ساتھ روایات یہ بات ہے کہ جو شخص اپنے ساتھی کو یہ کہے کہ تم خاموش ہو جاؤ تو اس سے لغو کام کیا۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٢٣٢‘ نمبر ١١١٨‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ٨٨‘ مسند احمد ٤؍١٨٨۔
حاصل روایات : اس روایت میں غور کرو کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو بیٹھنے کا حکم فرمایا اس کو نماز کا حکم نہیں فرمایا یہ روایت سلیک (رض) اور ابو سعد (رض) والی روایت کے خلاف ہے وہ روایات دوران خطبہ ان افعال کی اباحت کو ظاہر کر رہی ہیں اور یہ روایت ممانعت کو ثابت کر رہی ہے اس روایت میں موجود ہے فالقی الناس ثیابہم اور اس بات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے خطبہ کے وقت اپنا کپڑا کھینچنا ممنوع ہے اسی طرح کنکریوں کا پکڑنا بھی خطبہ میں مکروہ بلکہ زبان سے انصت کا لفظ کہنا بھی دوران خطبہ ممنوع ہے یہ قرائن اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ سلیک کو حکم دینا اور آدمی کے لیے صدقہ کا حکم یہ ممانعت سے پہلے کی بات ہے اور بعد میں منسوخ کردی گئیں۔
دلیل : جب امام کے خطبہ کے دوران انصت کہنا بھی ممنوع ہے اور لغو حرکت ہے تو اور باتیں تو خود ممنوع ہوں گی۔
ممانعت کلام والی چند روایات ملاحظہ ہوں۔