۲۱۱۸: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوُد‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَارِظٍ‘ وَعَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُمَا حَدَّثَاہُ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ سَمِعَہُ یَقُوْلُ : (اِذَا قُلْتُ لِصَاحِبِک أَنْصِتْ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ‘ فَقَدْ لَغَوْتُ) فَإِذَا کَانَ قَوْلُ الرَّجُلِ لِصَاحِبِہٖ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ (أَنْصِتْ) لَغْوًا‘ کَانَ قَوْلُ الْاِمَامِ لِلرَّجُلِ (قُمْ فَصَلِّ) لَغْوًا أَیْضًا .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الْوَقْتَ الَّذِیْ کَانَ فِیْہِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْأَمْرُ لِسُلَیْکٍ بِمَا أَمَرَہٗ بِہٖ‘ کَانَ الْحُکْمُ مِنْہُ فِیْ ذٰلِکَ‘ بِخِلَافِ الْحُکْمِ فِی الْوَقْتِ الَّذِیْ جَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ لَغْوًا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مِثْلِ ذٰلِکَ‘
٢١١٨: سعید بن المسیب اور عبداللہ بن قارظ دونوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کی کہ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا امام کے خطبہ کے دوران جمعہ کے دن اگر تم نے اپنے ساتھ کو انصت کہا تو تم نے لغو بات کہی۔
تخریج : سابقہ تخریج ملاحظہ ہو ‘ نمبر ٢١١٦۔
حاصل روایات : جب آدمی کا اپنے ساتھی کو انصیت خاموش ‘ کہنا لغو بات اور حرکت ہے تو امام اگر کسی کو کہے اٹھو اور نماز پڑھو تو یہ بھی وہی حکم رکھتی ہے پس اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ سلیک (رض) والا واقعہ ایک وقت میں وہ حکم تھا پھر جب وہ منسوخ ہوا تو دوسرے کو خاموش کا لفظ بھی لغو قرار دیا گیا۔
دلیل۔ اور نسخ کی تائید ان روایات سے ہوتی ہے۔