۲۱۱۹: مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَا : ثَنَا مَکِّیُّ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَعِیْدٍ‘ عَنْ حَرْبِ بْنِ قَیْسٍ‘ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّہٗ قَالَ : (جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ یَوْمِ جُمُعَۃٍ عَلَی الْمِنْبَرِ یَخْطُبُ النَّاسَ‘ فَتَلَا آیَۃً‘ وَإِلَی جَنْبِیْ أُبَیّ بْنُ کَعْبٍ‘ فَقُلْتُ لَہٗ : یَا أُبَیّ‘ مَتَی نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ؟ فَأَبَیْ أَنْ یُکَلِّمَنِیْ حَتّٰی اِذَا نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ‘ قَالَ : مَا لَک مِنْ جُمُعَتِک إِلَّا مَا لَغَوْت .ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَجِئْتہ فَأَخْبَرْتہ‘ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ إِنَّک تَلَوْت آیَۃً وَإِلَی جَنْبِیْ أُبَیّ بْنُ کَعْبٍ‘ فَسَأَلْتہ : مَتَی نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ؟ فَأَبَیْ أَنْ یُکَلِّمَنِی‘ حَتّٰی اِذَا نَزَلْتُ زَعَمَ أَنَّہٗ لَیْسَ لِیْ مِنْ جُمُعَتِی إِلَّا مَا لَغَوْت‘ قَالَ : صَدَقَ‘ اِذَا سَمِعْتُ إِمَامَک یَتَکَلَّمُ‘ فَأَنْصِتْ حَتّٰی یَنْصَرِفَ).
٢١١٩: صرب بن قیس حضرت ابوالدردائ (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن منبر پر خطبہ کے لیے بیٹھے اور ایک آیت تلاوت فرمائی میرے پہلو میں ابی بن کعب تشریف فرما تھے میں نے ان کو کہا اے ابی ! یہ آیت کب نازل ہوئی انھوں نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کردیا جب تک کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے نہیں اترے پھر کہنے لگے تمہیں تمہارے جمعہ سے سوائے لغو بات کے کچھ حاصل نہیں ہوا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب واپس تشریف لے گئے تو میں آپ کی خدمت میں آیا اور میں نے اس بات کی اطلاع دی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے خطبے میں آیت کی تلاوت فرمائی میرے پہلو میں اس وقت ابی بن کعب بیٹھے تھے میں نے ان سے سوال کیا یہ آیت کب اتری ؟ تو ابی نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کردیا جب آپ منبر سے نیچے تشریف لائے تو اس نے مجھے کہا کہ تمہارے جمعہ کا تمہیں سوائے لغو بات کے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس نے سچ کہا۔ جب تم امام کو کلام کرتے سنو تو خاموش ہوجاؤ یہاں تک امام نماز سے فارغ ہوجائے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الاقامہ باب ٨٦‘ مسند احمد ٥؍١٤٣۔