hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 214

.

الطحاوي

214
Al Tahawi
۲۱۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُذَیْفَۃَ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ : ثَنَا عَلْقَمَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیْہِ ، ( عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ یَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاۃٍ) .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْحَاضِرِیْنَ یَجِبُ عَلَیْہِمْ أَنْ یَتَوَضَّئُوْا لِکُلِّ صَلَاۃٍ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَکْثَرُ الْعُلَمَائِ ، فَقَالُوْا : لَا یَجِبُ الْوُضُوْئُ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ .وَکَانَ مِمَّا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ ، مَا یُوَافِقُ مَا ذَہَبُوْا إِلَیْہِ فِیْ ذٰلِکَ ، مَا۔
٢١٤ : حضرت بریدہ (رض) نے روایت نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے لیے وضو فرماتے تھے۔ علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ مقیم افراد پر واجب ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کریں اور انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔ علماء کی اکثریت نے ان کی مخالفت کی ہے۔ پس انھوں نے کہا کہ وضو تو اسی پر واجب ہے جو بےوضو ہو اور ان کے مسلک کی تائید جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ روایت ہے۔
تخریج : ابن ماجہ ١؍٣٨‘ باب الوضو لکل صلوۃ
حاصل روایات : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے جو کہ حالت اقامت کا عمل ہے اور فتح کے دن والا عمل سفر کی حالت میں ہے پس مسافر ساری نمازیں ایک وضو سے بھی پڑھ سکتا ہے بظاہر اہل ظواہر نے ان روایات کو اپنا مستدل بنایا ہے۔
مسلک دوم :
حدث پیش آنے کی صورت میں تو وضو واجب ہے مگر وضو ہوتے ہوئے ہر نماز کے لیے وضو واجب نہیں مسافر کے لیے فریق مخالف نمبر ١ بھی اس کا قائل ہے اور مقیم کے لیے دیگر روایات کافی ثبوت ہیں ان روایات میں فضیلت کے لیے وضو کا احتمال ہے پس استدلال درست نہیں۔
روایات ملاحظہ ہوں۔